چین میں تحقیق پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

چینی جامعات کے پاس اربوں ڈالر کے بجٹ ہیں اور وہ مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، بیٹری ٹیکنالوجی اور جینومکس جیسے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں

چین میں تحقیق پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

چین کی جامعات اور تحقیقی اداروں میں کی جانے والی سرمایہ کاری اب محض تعلیمی معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی طاقت کے توازن، ٹیکنالوجی، معیشت اور حتیٰ کہ جغرافیائی سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے جس رفتار سے اپنی یونیورسٹیوں، سائنسی لیبارٹریوں اور تحقیقاتی منصوبوں پر سرمایہ لگایا ہے، اس نے امریکا کی دہائیوں پر محیط علمی برتری کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج دیا ہے۔ دوسری طرف امریکا میں وفاقی سطح پر تحقیق کے لیے فنڈنگ میں سست روی، بجٹ کٹوتیوں اور سیاسی تنازعات نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ کہیں امریکا اپنی سائنسی قیادت کھو نہ دے۔

چین نے 1990 کی دہائی کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ اگر اسے عالمی طاقت بننا ہے تو صرف فیکٹریاں لگانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے سائنس، انجینئرنگ اور اعلیٰ تعلیم میں بھی سبقت حاصل کرنا ہوگی۔ اسی مقصد کے تحت بیجنگ نے پروجیکٹ 2011، پروجیکٹ 985 اور بعد میں ڈبل فرسٹ کلاس یونیورسٹی پلان جیسے منصوبے شروع کیے۔ ان پروگراموں کے تحت چینی جامعات کو اربوں ڈالر فراہم کیے گئے تاکہ وہ عالمی معیار کی تحقیق کرسکیں، بہترین سائنس دانوں کو واپس لائیں اور نئی ٹیکنالوجیز میں پیشرفت کریں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ سنگھوا اور پیکنگ یونیورسٹی جیسی جامعات دنیا کی صفِ اول کی تحقیقی یونیورسٹیوں میں شمار ہونے لگی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق چین نے گزشتہ تین دہائیوں میں مسلسل اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی یونیورسٹیوں کو عالمی اشرافیہ میں شامل کردیا ہے۔ چینی جامعات کے پاس اربوں ڈالر کے تحقیقی بجٹ ہیں اور وہ مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، بیٹری ٹیکنالوجی اور جینومکس جیسے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

چین کی کامیابی صرف عمارتیں بنانے یا طلبہ کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے تحقیقاتی پیداوار میں بھی حیرت انگیز اضافہ کیا ہے۔ نیچر اور او ای سی ڈی کی حالیہ رپورٹس کے مطابق چین اب سائنسی تحقیق پر خرچ ہونے والی مجموعی رقم میں امریکا کے برابر پہنچ چکا ہے، بلکہ پرچیزنگ پاور پیریٹی کے حساب سے اسے پیچھے بھی چھوڑ چکا ہے۔

او ای سی ڈی کے مطابق چین کی تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری 2024 میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ تھی جبکہ امریکا تقریباً اسی سطح پر برقرار رہا۔ فرق یہ ہے کہ چین میں یہ سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ امریکا میں اس کی رفتار نسبتاً کم ہوگئی ہے۔

امریکا میں کئی ماہرین یہ شکایت کررہے ہیں کہ حکومت اب تحقیق کو پہلے جیسی ترجیح نہیں دے رہی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا نے اپنی جامعات اور وفاقی لیبارٹریوں پر مسلسل سرمایہ کاری کی تھی جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ، سیمی کنڈکٹر، جی پی ایس اور ایم آر این اے ویکسین جیسی ایجادات سامنے آئیں۔ لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی وفاقی تحقیقاتی بجٹ کی شرح مجموعی معیشت کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، جبکہ کئی سائنسی اداروں کو بجٹ کٹوتیوں کا سامنا ہے۔

کئی امریکی جامعات کو خدشہ ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ان کی تحقیقاتی صلاحیت متاثر ہوگی۔ ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں خبردار کیا گیا کہ اگر وفاقی فنڈنگ میں بڑی کمی کی گئی تو امریکا کی تحقیقاتی جامعات، خاص طور پر اسٹیم شعبے، شدید دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

چین میں تحقیق پر فنڈنگ میں اضافے کے ساتھ تحقیقی مقالوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نیچر انڈیکس کے مطابق کئی شعبوں میں چینی ادارے امریکی اداروں سے زیادہ تحقیقی اشاعتیں دے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور انجینئرنگ جیسے میدانوں میں چینی محققین اور مقالوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

البتہ چین کی اس کامیابی کے باوجود بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ وہاں تحقیقی نظام پر سیاسی کنٹرول بہت زیادہ ہے، اور بعض اوقات تحقیقی معیار کے بجائے تعداد پر زور دیا جاتا ہے۔ فرانسیسی اخبار لا مونڈے نے حال میں خبردار کیا کہ چینی جامعات میں علمی بدعنوانی، جعلی تحقیقی مقالوں اور پیپر ملز کا مسئلہ موجود ہے۔

اس کے باوجود مجموعی تصویر واضح ہے کہ چین نے تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کو قومی طاقت کا بنیادی ستون بنادیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آئندہ دو دہائیوں میں عالمی سائنسی قیادت مکمل طور پر ایشیا کی طرف منتقل ہوسکتی ہے۔


Financial Times: How China’s universities joined the global elite

Nature: China could be the world’s biggest public funder of science within two years

La Monde: 'Those lamenting the lag in Western research risk falling into the trap set by the Chinese party-state'