احادیث کی تعداد چھ لاکھ تھی تو قطعی الثبوت صرف تین سو کیوں؟
جدید محققین کے اندازوں کے مطابق صحاح ستہ سے تکرار نکال دی جائے تو منفرد صحیح اور حسن احادیث کی تعداد نو سے دس ہزار کے درمیان رہ جاتی ہے
جدید محققین کے اندازوں کے مطابق صحاح ستہ سے تکرار نکال دی جائے تو منفرد صحیح اور حسن احادیث کی تعداد نو سے دس ہزار کے درمیان رہ جاتی ہے
مذہبیات
حدیث گھڑنے والوں، کذاب، ضعیف اور مجہول راویوں پر تو سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن ایسے افراد پر تحقیق بہت کم ہوئی ہے، جن کے تاریخی وجود ہی پر سوال ہو
مذہبیات
سکندر کی دیوار اور یاجوج ماجوج کے قصے کا ملاپ کا قدیم ترین ماخذ ایک مختصر تحریر ہے جسے سریانی الیگزینڈر لیجنڈ کہا جاتا ہے
مذہبیات
بعض افراد نے خود کو رسول کہا، بعض نے صرف روح القدس کا ترجمان ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعض کو ان کے پیروکاروں نے بعد میں نبی کا درجہ دے دیا
مذہبیات
ابن سبا سے متعلق تمام روایات ایک ہی شخص کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں جس کا نام سیف بن عمر التمیمی تھا، اہلسنت محدثین اسے قابل اعتماد راوی نہیں سمجھتے
مذہبیات
چھٹی صدی کے عرب میں عبادت گاہ ہمیشہ ایک شاندار عمارت نہیں ہوتی تھی، بعض اوقات وہ صرف ایک مقدس پتھر، ایک کھلا احاطہ یا چند دیواروں پر مشتمل مقام بھی ہوسکتی تھی
مذہبیات
حضرت علی کے بہت سے خطبات اور خطوط وقعہ صفين، الغارات، انساب الاشراف، تاریخ طبری، البيان والتبيين، العقد الفريد اور دوسری کتابیں میں شامل ہیں
مذہبیات
ابولولو چکی بنانے کا ماہر تھا، اس نے حضرت عمر سے کہا کہ میں آپ کے لیے ایسی چکی بناوں گا جس کا چرچا مشرق و مغرب میں ہوگا
مذہبیات
قدیم تاریخی مآخذ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ حضرت عثمان کے خلاف احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والے افراد اور آخری حملہ کرنے والے افراد االگ الگ تھے
مذہبیات
یمن سے تعلق رکھنے والے مالک اشتر نے حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں عراق اور شام کی فتوحات میں حصہ لیا اور بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کی
مذہبیات
آج یہ بات وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہے کہ اہلبیت 20 صفر 61 ہجری کو دوبارہ کربلا پہنچے، قدیم تاریخی مآخذ اس بارے میں خاموش ہیں
مذہبیات
آغاز عبداللہ بن عمیر کلبی اور ابن زیاد کے غلام یسار کے انفرادی مبازرے سے ہوا، اجتماعی جنگ بھی ہوئی، ایک خاتون کو بھی قتل کیا گیا
کچھ لکھیں...