احادیث کی تعداد چھ لاکھ تھی تو قطعی الثبوت صرف تین سو کیوں؟
جدید محققین کے اندازوں کے مطابق صحاح ستہ سے تکرار نکال دی جائے تو منفرد صحیح اور حسن احادیث کی تعداد نو سے دس ہزار کے درمیان رہ جاتی ہے
جدید محققین کے اندازوں کے مطابق صحاح ستہ سے تکرار نکال دی جائے تو منفرد صحیح اور حسن احادیث کی تعداد نو سے دس ہزار کے درمیان رہ جاتی ہے
کچھ لکھیں...