فٹبال نوجوانوں کا کھیل لیکن ورلڈکپ میں 40 سال کے آٹھ کھلاڑی

زیادہ عمر تک کھیلنے کے لیے صرف جسمانی تیاری نہیں بلکہ ذہنی استقامت، سیکھنے کی صلاحیت، معاشی استحکام، خاندانی ماحول اور کھیل سے محبت بھی ضروری ہے

فٹبال نوجوانوں کا کھیل لیکن ورلڈکپ میں 40 سال کے آٹھ کھلاڑی

فٹبال نوجوانوں کا کھیل ہے اور کسی زمانے میں تیس سال کے کھلاڑیوں کو بھی بوڑھا کہہ دیا جاتا تھا۔ نوے سالہ تاریخ میں صرف سات کھلاڑی ایسے تھے جو چالیسویں سالگرہ کے بعد بھی ورلڈکپ کھیل گئے۔لیکن اس تعداد سے زیادہ یعنی آٹھ ایسے کھلاڑی ورلڈکپ 2026 میں کھیل رہے ہیں جن کی عمر چالیس سے زیادہ ہے۔

یہ تبدیلی صرف فٹبال تک محدود نہیں۔ موٹر ریسنگ میں لیوس ہیملٹن 41 برس کی عمر میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ ٹینس میں سیرینا ولیمز 44 اور وینس ولیمز 46 برس کی عمر میں اعلیٰ سطح پر مقابلوں میں شریک ہورہی ہیں۔ چند دہائیاں پہلے یہ تصور بھی مشکل تھا کہ کھلاڑی چالیس برس کی عمر میں عالمی سطح پر مقابلہ کرسکیں گے لیکن اب ایسا معمول ہوتا جارہا ہے۔

اس تبدیلی کی سب سے نمایاں علامت کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے رونالڈو ورلڈکپ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف ایک اور ٹورنامنٹ نہیں بلکہ دو دہائیوں پر محیط کریئر کا تسلسل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کے کھلاڑی واقعی پہلے سے زیادہ دیر تک جوان رہتے ہیں یا انھوں نے بڑھتی عمر کے اثرات سے نمٹنے کے طریقے سیکھ لیے ہیں؟

گارڈین میں شائع ایک تجزیے کے مطابق جواب دوسری صورت کے زیادہ قریب ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر لیام اینڈرسن کا کہنا ہے کہ کھلاڑی بڑھاپے سے محفوظ نہیں ہوتے، لیکن جدید سپورٹس سائنس ان کے جسمانی زوال کی رفتار کم کردیتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر کئی دہائیوں کا تجربہ، کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت اور حکمت عملی شامل ہوجائے تو ایک کھلاڑی زیادہ عرصے تک متحرک رہ سکتا ہے۔

اعدادوشمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ سینٹر فار ایکسیلنس اِن پاپولیشن ایجنگ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق 1992 کے بعد اولمپکس میں شریک کھلاڑیوں کی اوسط عمر تقریباً دو سال بڑھ چکی ہے۔ فٹبال میں بھی مردوں اور خواتین دونوں کی اوسط عمر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انسانی جسم میں عمر کے ساتھ واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ عضلات کی طاقت کم ہوتی ہے، زیادہ رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بتدریج گھٹتی ہے، اور چوٹوں سے صحت یابی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سو میٹر دوڑ جیسے کھیلوں میں عمر رسیدہ کھلاڑی شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن تمام جسمانی صلاحیتیں ایک رفتار سے کمزور نہیں ہوتیں۔ برداشت، فیصلہ سازی، کھیل کو پڑھنے کی صلاحیت اور جذباتی کنٹرول نسبتاً دیر تک برقرار رہتے ہیں۔ یہ خصوصیات عمر رسیدہ کھلاڑیوں کو نوجوان حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے رکھتی ہیں۔

رونالڈو اس کی بہترین مثال ہیں۔ اپنے کریئر کے ابتدائی برسوں میں وہ ایک تیز رفتار ونگر تھے جو مسلسل تیز دوڑتے تھے۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ انھوں نے اپنا انداز تبدیل کیا۔ اب وہ زیادہ تر سینٹر فارورڈ کے طور پر کھیلتے ہیں، کم دوڑتے ہیں اور کھیل کو پہلے سے بہتر انداز میں پڑھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی حکمت عملی انھیں چالیس برس کے بعد بھی مؤثر بنائے ہوئے ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جدید سپورٹس سائنس نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب کھلاڑیوں کی دل کی دھڑکن، عضلات میں آکسیجن کی مقدار، سوزش کی سطح اور دوسرے حیاتیاتی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ پہننے کے قابل سینسرز، جی پی ایس ٹریکرز اور ڈیجیٹل تجزیاتی نظام کوچز کو بتاتے ہیں کہ کسی کھلاڑی کو کب آرام دینا ہے اور کب زیادہ محنت کروانی ہے۔

اس کے باوجود ماہرین اس خیال سے متفق نہیں کہ ٹیکنالوجی تنہا اس کامیابی کی وجہ ہے۔ کروشیا کے معروف ماہر کائنیزیالوجی ولاٹکو ووچیٹچ ایک دہائی سے زائد عرصے تک لوکا موڈریچ کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف سائنس، مشینوں یا مصنوعی ذہانت کی کہانی نہیں بلکہ انسانوں کی کہانی ہے۔ ان کے مطابق لمبی عمر کے کھیل کے لیے صرف جسمانی تیاری نہیں بلکہ ذہنی استقامت، سیکھنے کی صلاحیت، معاشی استحکام، خاندانی ماحول اور کھیل سے محبت بھی ضروری ہے۔
انگلش ٹیم کے سابق پرفارمنس کوچ بین روزن بلیٹ بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق جدید تربیتی سائنس، چوٹوں سے بچاؤ کے طریقوں اور بہتر طرز زندگی نے کھلاڑیوں کے کریئر کو طویل کیا ہے، لیکن اصل راز اب بھی بنیادی چیزوں میں پوشیدہ ہے۔ یعنی مناسب نیند، متوازن غذا، باقاعدہ تربیت، پانی کا استعمال اور موثر ریکوری۔ ان کے الفاظ میں کامیابی کا راز اکثر انھیں "بورنگ اور بنیادی" عادات میں چھپا ہوتا ہے جنھیں بہت سے لوگ نظرانداز کردیتے ہیں۔

گارڈین کے مطابق کھیلوں کے میدان، جوتے، لباس اور طبی سہولتیں بھی ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوچکی ہیں۔ چند دہائیاں پہلے گھٹنے کی شدید چوٹ کسی کھلاڑی کے کریئر کا خاتمہ کردیتی تھی، جبکہ آج ایسے کھلاڑی چند ماہ بعد دوبارہ عالمی سطح پر کھیلتے نظر آتے ہیں۔

اس تمام پیشرفت کے باوجود قسمت کا عنصر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ بہت سے باصلاحیت کھلاڑی صرف اس لیے جلد ریٹائر ہوجاتے ہیں کہ انھیں سنگین چوٹ لگ جاتی ہے، جبکہ رونالڈو، موڈریچ یا سیرینا ولیمز جیسے ستارے بڑی حد تک تباہ کن چوٹوں سے محفوظ رہے ہیں۔ گارڈین کے مطابق جینیات، وسائل تک رسائی اور خوش قسمتی بھی ان کی کامیابی میں حصہ ڈالتی ہیں۔

ورلڈ کپ 2026 میں شاید یہ تبدیلی سب سے واضح ہے۔ کریگ گورڈن، گیلرمو اوچوا، لوکا موڈریچ، ایڈن ژیکو، فرنینڈو موسلیرا، مینوئل نوئر، ووزینیا اور رونالڈو اس ٹورنامنٹ میں صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ فعال اور مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔

ممکن ہے آنے والے برسوں میں چالیس سالہ کھلاڑیوں کی موجودگی اتنی غیرمعمولی نہ رہے جتنی آج محسوس ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال سپورٹس سائنس، جدید طبی سہولتوں، بہتر طرز زندگی اور غیرمعمولی عزم نے انسانی جسم کی ان حدود کو ضرور آگے دھکیل دیا ہے جنہیں کبھی ناقابل عبور سمجھا جاتا تھا۔ عمر اب بھی اہم ہے لیکن پہلے جتنی فیصلہ کن نہیں رہی۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Fifa: Evergreen elite set for record-breaking finals

Al Jazeera: Ronaldo, other ageing stars push limits to make history at World Cup 2026

Guardian: Good food, good genes, good luck: how Ronaldo, Serena and other top athletes compete in their 40s