فیفا ورلڈکپ میں 64 ٹیمیں، کون حق میں ہے اور کون خلاف؟
اگر ٹیموں کی تعداد بڑھائی گئی تو زیادہ اسٹیڈیم، زیادہ سفری انتظامات اور زیادہ اخراجات کرنے پڑیں گے، ایسا ہوا تو مستقبل میں ورلڈکپ کی میزبانی چند بڑے ممالک ہی کرسکیں گے
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا ہے کہ 2030 کے ورلڈکپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھاکر 64 کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو صرف آٹھ برس میں ورلڈکپ دوسری بار بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرے گا۔ فیفا کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر کھیلنے کا موقع دے گی، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ورلڈکپ کی انفرادیت، معیار اور کوالیفائنگ مرحلے کی اہمیت متاثر ہوگی۔
ورلڈکپ میں 1994 تک کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی 24 تھی۔ 1998 سے 2022 تک یہ ٹورنامنٹ 32 ٹیموں پر مشتمل رہا۔ 2017 میں فیفا کونسل نے اسے 48 ٹیموں تک بڑھانے کی منظوری دی، جس پر پہلی بار 2026 کے ٹورنامنٹ میں عمل کیا جارہا ہے۔ انفانٹینو کا کہنا ہے کہ اگر 48 ٹیموں والا ورلڈکپ کامیاب ثابت ہوا ہے تو 64 ٹیموں کے فارمیٹ پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر ورلڈکپ کے بعد متعلقہ کمیٹیوں میں تفصیلی بحث ہوگی۔
اس تجویز پر سب سے مضبوط حمایت لاطینی امریکا سے آرہی ہے۔ یہ خیال پہلی بار 2025 میں یوراگوئے کے فٹبال عہدیدار اگناسیو الونسو نے فیفا کونسل کے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ اس کے بعد جنوبی امریکا کی فٹبال تنظیم کے صدر الیخاندرو دومینگیز نے بھی 2030 ورلڈکپ میں میں 64 ٹیموں کا بیان دیا۔ چونکہ 2030 کا ٹورنامنٹ ورلڈکپ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اسپین، پرتگال، مراکش، ارجنٹینا، یوراگوئے اور پیراگوئے میں منعقد ہوگا، اس لیے جنوبی امریکی ممالک چاہتے ہیں کہ زیادہ میچ ان کے حصے میں آئیں اور جشن زیادہ وسیع پیمانے پر منایا جائے۔
انفانٹینو اس توسیع کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق ورلڈکپ صرف یورپ اور جنوبی امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہونا چاہیے۔ ہر ملک کو یہ خواب دیکھنے کا حق ملنا چاہیے کہ وہ ایک دن ورلڈکپ میں شرکت کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر چھوٹے ممالک کو یہ موقع ہی نہ دیا جائے تو ان کے پاس اپنا کھیل بہتر بنانے کی ترغیب کم ہوجائے گی۔
فیفا کے صدر اپنی دلیل کے لیے 2026 کے ورلڈکپ کی مثال دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس بار تقریباً ہر براعظم کی ٹیموں نے گول کیے، پوائنٹس حاصل کیے اور افریقا کی دس میں سے نو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچیں۔ گزشتہ ورلڈکپ میں صرف پانچ افریقی ٹیمیں شریک تھیں۔ ان کے خیال میں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں فٹبال کا معیار بلند ہورہا ہے اور زیادہ ممالک عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوچکے ہیں۔
اس سے پہلے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ورلڈکپ میں کمزور ٹیموں کی وجہ سے یکطرفہ مقابلے بڑھ جائیں گے، لیکن ایسا بڑے پیمانے پر نہیں ہوا۔ بعض میڈیا اداروں نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر میچ مسابقتی رہے اور صرف چند مقابلوں میں چار یا اس سے زیادہ گول کا فرق رہا۔ کیپ ورڈے جیسی نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیم نے دفاعی چیمپین ارجنٹینا کے ساتھ سخت مقابلہ کیا، جسے حامی اپنی دلیل کے طور پر پیش کررہے ہیں۔
دوسری جانب اس تجویز کے مخالفین بھی کم نہیں۔ یورپی فٹبال فیڈریشن کے صدر الیگزینڈر چیفرن کہتے ہیں کہ اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا تو نہ صرف ورلڈکپ بلکہ یورپی کوالیفائنگ مقابلے بھی متاثر ہوں گے۔ ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے خبردار کیا کہ مزید توسیع "افراتفری" پیدا کرسکتی ہے، جبکہ شمالی و وسطی امریکا کی تنظیم کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی کے مطابق یہ تجویز "درست محسوس نہیں ہوتی" اور اس سے عالمی فٹبال کا مجموعی ڈھانچا متاثر ہوسکتا ہے۔
ناقدین کا ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ اگر 64 ٹیمیں ورلڈکپ کھیلیں گی تو فیفا کے تقریباً ایک تہائی رکن ممالک براہ راست فائنل راؤنڈ تک پہنچ جائیں گے۔ اس صورت میں کئی براعظمی کوالیفائنگ مقابلے اپنی کشش اور اہمیت کھو سکتے ہیں، کیونکہ پہلے ہی 48 ٹیموں والے فارمیٹ میں جنوبی امریکا کی دس میں سے چھ ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کررہی ہیں جبکہ ایک اور ٹیم پلے آف کھیلتی ہے۔
عملی مسائل بھی کم نہیں۔ اگر 64 ٹیموں کا فارمیٹ اختیار کیا جاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ 16 گروپس بنائے جائیں گے، ہر گروپ میں چار ٹیمیں ہوں گی اور مجموعی میچوں کی تعداد 128 تک پہنچ جائے گی۔ اتنا بڑا ٹورنامنٹ زیادہ اسٹیڈیم، زیادہ سفری انتظامات، زیادہ اخراجات اور طویل مدت کا تقاضا کرے گا۔ بی بی سی کے مطابق ایسا ہوا تو مستقبل میں ورلڈکپ کی میزبانی صرف چند ممالک ہی کرسکیں گے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Reuters: Potential World Cup expansion to be discussed after 2026 edition - Infantino
BBC: Infantino opens door to 64-team World Cup
talkSports: Gianni Infantino delivers new update on 64-team World Cup plans for 2030