مغربی یورپ میں جان لیوا گرمی، زیادہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں جانے والے درجنوں افراد ڈوب کر مر گئے، لاکھوں مرغیاں ہلاک، ہزاروں اسکول بند، ٹرانسپورٹ نظام متاثر، بجلی فراہمی میں رکاوٹیں
یورپ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور یہ صورتحال معمول کی گرمی سے کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ جون 2026 کے آخری ہفتے میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں درجۂ حرارت نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ بعض شہروں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوگیا جس کے بعد ہزاروں اسکول بند کرنے پڑے، ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں آئیں اور مختلف وجوہ سے درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ماہرین کے مطابق یہ محض ایک وقتی موسمی واقعہ نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب یورپ کے روزمرہ زندگی کو تبدیل کررہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس شدید گرمی کی وجہ ایک موسمی نظام ہے جسے اومیگا بلاک کہا جاتا ہے۔ اس میں بلند فضائی دباؤ کا ایک بڑا حلقہ ایک علاقے کے اوپر کئی دنوں تک قائم رہتا ہے، جس کے باعث گرم ہوا ایک جگہ قید ہوجاتی ہے اور ٹھنڈی ہواؤں کا داخلہ رک جاتا ہے۔ نتیجتاً درجۂ حرارت مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ جون 2026 کی اس لہر میں بعض علاقوں میں معمول سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
فرانس سب سے زیادہ متاثر نظر آتا ہے جہاں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ پیرس میں درجۂ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات میٹیو فرانس نے درجنوں اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کیا۔ حکام کے مطابق صرف گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں جانے والوں میں سے کم از کم 48 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے جبکہ دو بچے گرم گاڑی میں پھنس جانے کے باعث جان سے گئے۔ گرمی کے باعث فرانس کے جوہری بجلی گھروں کی پیداوار بھی تقریباً سات فیصد تک کم کرنا پڑی کیونکہ ری ایکٹروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار پانی ضرورت سے زیادہ گرم ہوگیا تھا۔
برطانیہ، جو تاریخی طور پر معتدل موسم کے لیے مشہور ہے، اس بار غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ ملک میں جون کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو 36.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ سیکڑوں اسکولوں نے یا تو تعطیل کردی یا اوقات کار کم کر دیے۔ لندن کی زیرزمین ریل سروس شدید دباؤ کا شکار رہی۔ لندن کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران شدید گرمی پر ہونے والا اہم اجلاس خود گرمی کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔
اٹلی میں بھی صورتحال کم تشویش ناک نہیں۔ روم، میلان، فلورنس، ٹورین اور ویرونا سمیت 16 شہروں کو شدید گرمی کے ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ فلورنس کی مشہور اوفیتسی گیلری کو اپنے ایئر کنڈیشننگ نظام میں خرابی کے باعث ٹکٹوں کی فروخت روکنا پڑی۔ ویٹی کن میں ہزاروں افراد نے پوپ کی ہفتہ وار تقریب میں شرکت کی لیکن شدید گرمی نے تقریب کو غیر معمولی بنادیا۔
اسپین میں دو بزرگ افراد ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہوئے جبکہ کئی دنوں تک درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا۔ اگرچہ اسپین گرمی کا عادی ملک سمجھا جاتا ہے لیکن قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں ریکارڈ ہونے والی گرمی جدید ریکارڈ کی تاریخ کی شدید ترین گرمیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس گرمی نے صرف انسانوں کو متاثر نہیں کیا۔ فرانس کے مغربی علاقوں میں پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں اور پرندے گرمی سے ہلاک ہو گئے۔ زرعی کارکنوں کو دن کے بجائے رات میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا تاکہ گرمی اور جنگل کی آگ کے خطرات کم کیے جاسکیں۔
اکانومسٹ میں شائع ایک تجزیے کے مطابق سائنس دانوں کے گروپ "کلیما میٹر" نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت نہ ہوتی تو گرمی کی موجودہ لہر کی شدت 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہوتی۔ یعنی موجودہ گرمی صرف ایک قدرتی موسمی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی نے اسے کہیں زیادہ خطرناک بنادیا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یورپ دوسرے براعظموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہورہا ہے۔ اکانومسٹ کے مطابق یورپ کا اوسط درجۂ حرارت فی دہائی تقریباً 0.56 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ رہا ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا ہے۔ یورپ قطب شمالی سے قریب ہے، جہاں عالمی حدت کے اثرات زیادہ تیزی سے محسوس ہوتے ہیں۔
سنہ 2003 کی یورپی ہیٹ ویو کے نتیجے میں 70 سے 80 ہزار اضافی اموات ہوئی تھیں۔ 2022 میں بھی شدید گرمی نے ساٹھ ہزار سے زیادہ جانیں لیں۔ اگرچہ یورپی ممالک نے گزشتہ برسوں میں گرمی سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار سے بڑھتی ہوئی حدت کے سامنے یہ اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔
موجودہ ہیٹ ویو مستقبل کی ایک جھلک معلوم ہوتی ہے۔ اگر عالمی حدت کے رجحان کو نہ روکا گیا تو یورپ میں ایسے واقعات مزید عام، طویل اور شدید ہوتے جائیں گے۔ تجزیہ کار سوال اٹھاتے ہیں کہ یورپی معاشرے، ان کی حکومتیں اور ان کا انفرااسٹرکچر اس نئی حقیقت کو کتنی جلدی قبول کرسکتے ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Reuters: Europe swelters under deadly 'Omega' heatwave, more records broken
New York Times: Europe Is Sweltering. Here’s What That Looks Like
The Economist: Global warming has made Europe’s heatwave 2-4°C worse
BBC: Air conditioning creates political divide after France records hottest day