امریکا بڑا کیسے بنا؟
برطانیہ سے آزادی صرف 13 ریاستوں نے حاصل کی، مختلف ادوار میں فرانس، اسپین اور روس سے ریاستیں خریدی گئیں، میکسیکو سے جنگ میں کامیابی نے ملک کو بحرالکاہل تک وسیع کردیا
آج کا امریکا اگر نقشے پر دیکھا جائے تو بحرِ اوقیانوس سے بحرِ الکاہل تک پھیلا ہوا عظیم ملک نظر آتا ہے۔ لیکن ابتدا میں ایسا نہیں تھا۔ 1776 میں مشرقی ساحل کے ساتھ واقع صرف 13 ریاستوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریاستیں نسبتاً چھوٹے علاقے پر مشتمل تھیں اور ان کے مغرب میں وسیع جنگلات، مقامی قبائل کی سرزمینیں اور یورپی طاقتوں کی کالونیاں موجود تھیں۔ وہ امریکا چند صدیوں میں اتنا بڑا کیسے بن گیا؟ اس کے پیچھے جنگیں، خرید و فروخت، سفارت کاری، معاہدے اور مسلسل مغربی توسیع کا عمل تھا۔
ابتدائی 13 ریاستیں دراصل برطانوی کالونیاں تھیں، جن میں ورجینیا، میساچوسٹس، نیویارک اور پنسلوانیا جیسی ریاستیں شامل تھیں۔ آزادی کے بعد نئی امریکی حکومت کو سب سے پہلے اپنے مغربی علاقوں پر کنٹرول مضبوط کرنا تھا۔ اس زمانے میں دریائے مسیسیپی کے مغرب کا بیشتر حصہ فرانس اور اسپین کے زیرِ اثر تھا۔ امریکی رہنما سمجھتے تھے کہ اگر ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر طاقتور بنانا ہے تو اسے مغرب کی طرف پھیلنا ہوگا۔
اسی پس منظر میں 1803 کا مشہور لوزیانا پرچیز ایگریمنٹ ہوا، جسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا زمین کا سودا کہا جاتا ہے۔ اس وقت فرانس کے حکمران نپولین بوناپارٹ تھے۔ انھیں یورپ میں جنگوں کے لیے رقم درکار تھی جبکہ امریکا دریائے مسیسیپی اور نیو اورلینز کی بندرگاہ تک رسائی چاہتا تھا۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے فرانس سے مذاکرات کیے اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں وسیع علاقہ خرید لیا۔
یہ خریداری اتنی بڑی تھی کہ امریکا کا رقبہ تقریباً دگنا ہوگیا۔ اس سے آج کی مکمل یا جزوی طور پر تقریباً 15 ریاستیں وجود میں آئیں۔ ان میں لوزیانا، آرکنساس، میسوری، آئیووا، اوکلاہوما، کنساس، نیبراسکا اور شمالی و جنوبی ڈکوٹا شامل ہیں۔ مونٹانا، وائیومنگ، کولوراڈو، منی سوٹا، نیو میکسیکو اور ٹیکساس کے کچھ حصے بھی اسی علاقے میں شامل تھے۔ اس وقت امریکی عوام کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ملک نے کتنی بڑی زمین حاصل کرلی ہے۔
لوزیانا خریدنے کے بعد امریکا کی نظریں مزید مغرب کی طرف اٹھیں۔ 1819 میں اسپین سے فلوریڈا کو خریدا گیا۔ اسپین کمزور ہوچکا تھا اور امریکا جنوب میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا تھا۔ اس معاہدے نے امریکا کو خلیجِ میکسیکو کے ساحل پر مزید قوت بخشی۔
سب سے اہم مرحلہ ٹیکساس کا تھا۔ یہ ریاست پہلے میکسیکو کا حصہ تھی، لیکن وہاں بڑی تعداد میں امریکی آبادکار جاچکے تھے۔ 1836 میں ٹیکساس نے میکسیکو سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور آزاد جمہوریہ بن گیا۔ چند برس بعد 1845 میں امریکا نے ٹیکساس کو اپنے ساتھ شامل کرلیا۔ اس سے امریکا اور میکسیکو کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ 1846 سے 1848 تک دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس میں میکسیکو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹریٹی آف گواڈالوپی ہیڈالگو کے تحت امریکا نے بڑا علاقہ حاصل کرلیا۔ اس میں آج کی کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ اور ایریزونا کے بڑے حصے شامل تھے، جبکہ نیو میکسیکو، کولوراڈو اور وائیومنگ کے کچھ علاقے بھی امریکا کو ملے۔ اس فتح نے امریکا کو بحرالکاہل تک پہنچادیا۔ اسی دوران کیلیفورنیا میں سونے کی دریافت نے لاکھوں لوگوں کو مغرب کی طرف کھینچ لیا۔
اس دوران 1846 ہی میں امریکا اور برطانیہ کے درمیان اوریگن ٹریٹی ہوئی، جس کے ذریعے موجودہ اوریگن، واشنگٹن اور آئیڈاہو کے علاقوں پر امریکی کنٹرول تسلیم کیا گیا۔ اس طرح شمال مغرب میں بھی امریکی سرحدیں وسیع ہوگئیں۔
روس نے 1867 میں اپنی ریاست الاسکا امریکا کو فروخت کردی۔ اس وقت بہت سے امریکیوں نے اسے برف کا بے کار ٹکڑا کہا، لیکن بعد میں وہاں تیل، گیس اور معدنیات کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔ آج الاسکا امریکا کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہ سودا صرف 72 لاکھ ڈالر میں ہوا تھا، جو حیران کن حد تک سستا سمجھا جاتا ہے۔
ہوائی جزائر کو امریکا نے 1898 میں بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ بحرالکاہل میں واقع یہ جزائر ابتدا میں الگ بادشاہت تھے، لیکن امریکی تاجروں اور فوجی مفادات نے رفتہ رفتہ وہاں اپنا اثر بڑھایا۔ یں ہوائی امریکا کی پچاسویں ریاست بنی۔
امریکا کی توسیع صرف معاہدوں اور خریداریوں سے نہیں ہوئی بلکہ اس عمل کے تاریک پہلو بھی تھے۔ مقامی امریکی قبائل اپنی زمینوں سے بے دخل کیےگئے، بہت سی جنگیں ہوئیں اور ہزاروں لوگ مارے گئے۔ مینی فیسٹ ڈیسٹنی، یعنی یہ تصور کہ امریکا کو پورے براعظم میں پھیلنا چاہیے، اس دور کی سیاست میں بہت طاقتور خیال بن گیا تھا۔ اسی سوچ نے مغربی توسیع کو جواز فراہم کیا۔
یوں چند ساحلی کالونیوں سے شروع ہونے والا امریکا بتدریج پورے شمالی براعظم کی بڑی طاقت بن گیا۔ لوزیانا خریداری اس عمل کا سب سے اہم موڑ تھی کیونکہ اسی نے امریکا کو مغرب کی طرف پھیلنے کا راستہ دیا۔ بعد کی جنگوں، معاہدوں اور خریداریوں نے اسے آج کی شکل دی، جہاں 50 ریاستوں پر مشتمل وسیع وفاق موجود ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
United States House of Representatives: Era of U.S. Continental Expansion