امریکا، ہر ورلڈکپ ٹیم کا ہوم گراونڈ، سب کا ہوم کراوڈ

ورلڈکپ نے تارکین وطن کی برادریوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کی ٹیموں کی حمایت اسی جوش و خروش سے کریں جیسے وہ اپنے اصل وطن میں موجود ہوں

امریکا، ہر ورلڈکپ ٹیم کا ہوم گراونڈ، سب کا ہوم کراوڈ

امریکا دنیا کا منفرد ملک ہے جہاں دوسرے تمام ملکوں کے امیگرنٹس بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اسی لیے یہاں ہونے والا کھیلوں کا ہر مقابلہ کامیابی کی مثال بن جاتا ہے۔ فیفا ورلڈکپ نے بھی یہاں آباد تارکین وطن کی چھوٹی بڑی برادریوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کی ٹیموں کی حمایت اسی جوش و خروش سے کریں جیسے وہ اپنے اصل وطن میں موجود ہوں۔ یوں ہر ٹیم گویا ہوم ٹیم ہے جسے ہوم گراونڈ اور ہوم کراوڈ میسر ہے۔

نیویارک کے علاقے کوئنز کے اسٹین وے ایونیو پر واقع 'لٹل مراکش' میں مراکشی شائقین نے اپنی ٹیم کے ہر میچ کو قومی تہوار بنادیا۔ ایک خاتون ریستوران مالک نے بتایا کہ انھوں نے اپنا ریستوران صرف کھانا کھلانے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو اکٹھے ہوکر فٹ بال دیکھنے کا ماحول دینے کے لیے کھولا تھا، کیونکہ مراکش میں ان کا بچپن بھی اسی روایت کے ساتھ گزرا تھا۔ جب مراکش نے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی حاصل کی تو شائقین سڑکوں پر نکل آئے، جیسے 2022 میں پرتگال کے خلاف تاریخی فتح کے بعد نکلے تھے۔

میامی کے لٹل ہیٹی میں ہیٹی کے باشندوں نے اپنی ٹیم کے لیے ریستورانوں، سڑکوں اور پارکنگ لاٹوں تک کو تماشائی مراکز میں بدل دیا۔ اگرچہ ہیٹی تمام میچ ہار گئی، لیکن بیشتر شائقین کے لیے اصل خوشی صرف اس بات میں تھی کہ نصف صدی بعد ان کا ملک دوبارہ ورلڈکپ میں پہنچا۔ سرخ اور نیلے رنگ کے لباس، قومی پرچم اور موسیقی نے پورے علاقے کو جشن میں بدل دیا۔

ہزاروں بوسنیائی باشندے نوّے کی دہائی کی جنگ اور نسل کشی کے دوران امریکا آئے تھے۔ ورلڈکپ کے دوران وہ سینٹ لوئس کے ایک کیفے میں جمع ہوئے تاکہ اپنی ٹیم کا میچ ساتھ دیکھ سکیں۔ ان کے لیے یہ صرف فٹبال نہیں بلکہ اپنے ماضی، اپنی بقا اور اپنی شناخت سے تعلق برقرار رکھنے کا ذریعہ تھا۔ جب بوسنیا پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچی تو یہ صرف کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی کامیابی محسوس ہوئی۔

شکاگو میں فرانسیسی شائقین نے کھلے آسمان تلے قائم ایک اسپورٹس کیفے میں اپنی ٹیم کی حمایت کی۔ فرانس چونکہ ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار کیا جارہا ہے، اس لیے وہاں ہر میچ کے ساتھ امید اور اعتماد بھی بڑھتا جارہا ہے۔

یوٹا کے شہر پروو میں ایک ارجنٹائن خاندان کئی نسلوں کو ایک ہی گھر میں مدعو کرکے لیونل میسی کا آخری ورلڈکپ دیکھ رہا ہے۔ گھر کو نیلے اور سفید جھنڈوں سے سجایا گیا ہے اور میچ کے دن بچوں کے چہروں پر ارجنٹینا کے پرچم کے رنگ بنائے جاتے ہیں۔ جب میسی نے ہیٹ ٹرک کی تو خاندان کی تین نسلیں ایک ساتھ خوشی سے جھوم اٹھیں۔

سلور اسپرنگ، میری لینڈ میں کانگو کے باشندوں نے قومی ترانہ گایا، ہاتھ دل پر رکھے اور اپنی ٹیم کی تاریخی واپسی کا جشن منایا۔ اگرچہ وہ ہار گئے لیکن پہلی بار گروپ مرحلے سے آگے بڑھنا ان کے لیے ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔

رہوڈ آئی لینڈ کے پرتگالی علاقے میں دو بلاک طویل اسٹریٹ پارٹی سجائی گئی۔ ریستورانوں میں کرسٹیانو رونالڈو کے نام پر خصوصی مشروب فروخت ہوا، سڑکوں پر بڑی اسکرینیں لگائی گئیں اور سیکڑوں افراد نے ایک ساتھ میچ دیکھا۔ کچھ لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے، کچھ کھڑے تھے اور کچھ کھانے پینے کی قطاروں میں کھڑے ہوئے موبائل فون پر میچ دیکھ رہے تھے۔

ٹیکساس کے سرحدی شہر ویسلیکو میں آبادی کی اکثریت میکسیکن نژاد ہے۔ وہاں میکسیکو کا میچ گویا مقامی تقریب بن گیا۔ نوجوان فٹ بال ٹیمیں، خاندان اور پڑوسی ایک ہی صحن میں جمع ہوئے اور فتح کے بعد رات گئے تک رقص کرتے رہے۔

میامی میں یوراگوئے کے شائقین ایک ریستوران میں اپنی ٹیم کی بقا کی جنگ دیکھتے رہے۔ ہر حملے پر سانسیں رک جاتی تھیں، لیکن اسپین سے شکست کے بعد پورا ماحول خاموشی میں ڈوب گیا۔

سان ڈیاگو میں جاپانی نژاد امریکیوں نے اپنی 'سامرائی بلیو' ٹیم کی حمایت کی۔ یہ وہ کمیونٹی تھی جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران قید و بند بھی دیکھا، لیکن آج اسی امریکہ میں کھلے دل سے اپنی قومی ٹیم کے لیے خوشی منارہی تھی۔

سب سے زیادہ تناو والا منظر لاس اینجلس کے ایرانی علاقے میں دکھائی دیا۔ بعض ایرانی نژاد امریکی اپنی قومی ٹیم کی حمایت سے گریز کررہے تھے کیونکہ ان کے نزدیک موجودہ حکومت اور قومی ٹیم کو الگ کرنا آسان نہیں تھا۔ دوسری طرف کچھ افراد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت نہیں بلکہ اپنے ملک اور اپنے عوام کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے لیے فٹ بال سیاست سے بالاتر ایک جذباتی رشتہ تھا۔

کیپ وردے جیسے چھوٹے جزیرہ نما ملک کے باشندے بھی امریکا میں بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ ان کی ٹیم ٹورنامنٹ کی حیرت انگیز ٹیم بن کر ابھری اور ایک چھوٹے سے ملک کے لیے بڑے خواب کی علامت بن گئی۔

یہ تمام مناظر ثابت کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کی تقریباً ہر قوم کا دوسرا گھر ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ اپنے آبائی وطن سے ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی اپنی زبان، ثقافت، کھانوں، موسیقی اور کھیل کے ذریعے اپنے ماضی سے رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ ورلڈکپ جیسے مقابلوں کے دوران یہ رشتہ زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

New York Times: In the United States, Every World Cup Team Is a Home Team

Guardian: US World Cup clash stirs mixed emotions in St Louis’s Bosnian community