امریکا کا آئن اسٹائن ویزا کیا ہے؟
او ون ویزا اور ای بی ون اے امیگریشن کا مقصد سائنس، تعلیم، فنون، کاروبار اور کھیلوں میں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد کو امریکا لانا ہے
البرٹ آئن اسٹائن جب 1933 میں نازی جرمنی سے نکل کر امریکا پہنچے تو اس سے پہلے عالمی شہرت یافتہ سائںس دان بن چکے تھے۔ امریکا نے ان کا استقبال ایک پناہ گزیں کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ذہن کے طور پر کیا جسے کھونا مغرب اپنے لیے نقصان سمجھتا تھا۔ بعد میں یہی تاثر امریکی امیگریشن کے پورے تصور سے جڑ گیا۔ اگر کوئی شخص اپنے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہو تو امریکا اسے اپنے ہاں جگہ دینے کے لیے خصوصی راستہ بناتا ہے۔ اسی وجہ سے آج بھی بعض لوگ امریکا کے ایسے ویزوں کو غیر رسمی طور پر آئن اسٹائن ویزا کہتے ہیں۔
اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ آئن اسٹائن کے لیے الگ قانون نہیں بنایا گیا تھا، لیکن 1990 کے امیگریشن ایکٹ کے بعد امریکا نے باضابطہ طور پر ایسی کیٹیگریاں متعارف کرائیں جن کا مقصد سائنس، تعلیم، فنون، کاروبار اور کھیلوں میں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد کو امریکا لانا تھا۔ ان میں دو سب سے اہم راستے او ون ویزا اور ای بی ون اے گرین کارڈ ہیں۔
او ون ویزا بنیادی طور پر عارضی ورک ویزا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس میں سائنس دان، پروفیسر، فلم ساز، صحافی، اداکار، موسیقار، کھلاڑی، کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی پاکستانی فلم ڈائریکٹر عالمی فلم فیسٹیولز میں ایوارڈ جیت چکا ہو، یا کوئی سائنس دان اہم تحقیقی مقالے شائع کرچکا ہو، یا کوئی ٹیک انٹرپرینیور بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں ہوچکا ہو، تو وہ او ون ویزا کے لیے اہل ہوسکتا ہے۔
اس ویزے کے لیے عام طور پر درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ٹاپ لوگوں میں شامل ہے۔ امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق درخواست گزار کو مختلف اقسام کے ثبوت دینا ہوتے ہیں، جیسے بین الاقوامی یا قومی ایوارڈز، میڈیا کوریج، جیوری ممبر کے طور پر خدمات، اہم اداروں میں کلیدی کردار، تحقیقی یا تخلیقی کام، یا غیر معمولی تنخواہ۔ زیادہ تر صورتوں میں کوئی امریکی کمپنی، ادارہ یا ایجنٹ اسپانسر بنتا ہے۔
اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ او ون ویزا گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 2024 میں ساڑھے انیس ہزار ایسے ویزے جاری ہوئے۔ 2025 میں یہ تعداد بیس ہزار سے اوپر چلی گئی۔ مختلف امیگریشن تجزیوں کے مطابق او ون ویزے کی منظوری کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے، اگرچہ درخواستوں کی جانچ پہلے کے مقابلے میں سخت ہوتی جارہی ہے۔
دوسری جانب ای بی ون اے کیٹگری زیادہ اہم اور مشکل کیٹیگری سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ براہِ راست مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وہ کیٹیگری ہے جسے اکثر آئن اسٹائن ویزا کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں درخواست گزار کو لازمی طور پر کسی امریکی آجر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خود بھی اپنی درخواست دائر کرسکتا ہے۔
ای بی ون اے کے لیے معیار او ون ویزا سے بھی زیادہ سخت سمجھا جاتا ہے۔ درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس کی شہرت صرف اچھی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کی ہے۔ اس کے لیے امیگریشن حکام مختلف معیارات دیکھتے ہیں، مثلاً بڑے ایوارڈز، عالمی میڈیا میں ذکر، اہم تحقیقی یا کاروباری کردار، کتابیں یا مقالے، ججز پینلز میں شرکت، یا ایسا کام جس نے پورے شعبے پر اثر ڈالا ہو۔
حالیہ برسوں میں امریکا میں اے آئی، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور تخلیقی صنعتوں کے پھیلاؤ کے بعد ای بی اے ون کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ امیگریشن تجزیوں کے مطابق 2025 میں وی بی ون کی مجموعی منظوری کی شرح تقریباً 81 فیصد رہی، لیکن ای بی ون اے کی منظوری نسبتاً کم، تقریباً 67 فیصد کے آس پاس رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ راستہ کھلا ضرور ہے لیکن اس میں بہت مسابقت ہے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بہت سے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد اب ایچ ون بی کے بجائے او ون اور ای بی ون سے جیسے راستوں میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ ایچ ون بی لاٹری پر منحصر ہے جبکہ غیر معمولی صلاحیت کی کیٹیگریاں میرٹ اور دستاویزات پر چلتی ہیں۔ خاص طور پر سائنس، میڈیا، ٹیکنالوجی، فلم، تدریس اور کاروبار سے وابستہ افراد اپنے پروفائل کو اس معیار تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس معاملے میں ایک مسئلہ موجودہ سیاسی ماحول ہے جس نے صورتحال کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کے امیگریشن اور ویزا کیسز کی پروسیسنگ معطل ہے۔ امریکی ویزا بلیٹن میں بھی ملازمت والی کیٹیگریوں خصوصاً ای بی ون اور وی بی ٹو میں بیک لاگ اورریٹروگریشن کی بات کی گئی ہے، یعنی درخواست گزاروں کی تعداد بڑھنے سے پروسیسنگ سست ہوگئی ہے۔
اس کے باوجود امریکا کی بنیادی پالیسی میں ایک بات مستقل دکھائی دیتی ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی اپنے شعبے میں نمایاں ہو تو اس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئن اسٹائن کی کہانی آج بھی امریکی امیگریشن کے اس تصور کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ غیر معمولی ذہانت اور صلاحیت والے افراد قومی سرمایہ ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Warren Law Firm: What Is an Einstein Visa? And Can You Get One?