امریکا کی آزادی کی 250 سال مکمل، ملک بھر میں جشن
ہزاروں مقامات پر پریڈز ہوں گی، شام کو تقریباً ہر بڑی آبادی میں آتش بازی ہوگی، جسے امریکی یوم آزادی کی سب سے نمایاں روایت سمجھا جاتا ہے
چار جولائی امریکا کی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن ہے۔ ٹھیک ڈھائی سو برس پہلے، چار جولائی 1776 کو تیرہ برطانوی نوآبادیوں کے نمائندوں نے فلاڈیلفیا میں اعلان آزادی کی منظوری دی تھی۔ اسی اعلان نے ایک نئے ملک، ریاست ہائے متحدہ امریکا کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ آزادی کی قرارداد دو جولائی کو منظور ہوچکی تھی لیکن چار جولائی وہ دن تھا جب اس تاریخی دستاویز کا حتمی متن اختیار کیا گیا۔ بعد میں یہی تاریخ امریکا کے یوم آزادی کے طور پر تسلیم کی گئی۔
امریکا کی آزادی محض برطانیہ سے سیاسی علیحدگی کا اعلان نہیں تھی بلکہ اس نے ایک ایسے سیاسی فلسفے کو جنم دیا جس نے پوری دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔ اعلان آزادی میں لکھا گیا کہ تمام انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں اور انھیں زندگی، آزادی اور خوشی کے حصول کے ناقابل تنسیخ حقوق حاصل ہیں۔ ان الفاظ نے بعد کی جمہوری تحریکوں، آئینی اصلاحات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متاثر کیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ خود امریکا کو بھی ان اصولوں پر مکمل عمل درآمد کرنے میں طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ غلامی، نسلی امتیاز، خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں کی تحریکیں اسی سفر کا حصہ رہیں۔
امریکا نے 1976 میں اپنی 200ویں سالگرہ بڑے پیمانے پر منائی تھی، لیکن ڈھائی سو سال کی تقریبات اس سے بھی زیادہ وسیع اور طویل منصوبہ بندی کے ساتھ منعقد کی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کانگریس نے برسوں پہلے امریکا 250 کمیشن قائم کیا تھا، جبکہ وفاقی حکومت نے بھی خصوصی تقریبات کے لیے الگ انتظامات کیے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف ریاستوں، شہروں، عجائب گھروں، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات پر اس موقع کی مناسبت سے پروگرام جاری ہیں۔
اس سال کی تقریبات کا مرکز صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ امریکی تاریخ کے پورے سفر پر غور کرنا بھی ہے۔ فلاڈیلفیا، جہاں اعلان آزادی پر دستخط ہوئے تھے، سب سے اہم تقریبات کی میزبانی کررہا ہے۔ تاریخی عمارتوں پر خصوصی روشنی کی گئی ہے، فوجی بینڈ پرفارم کررہے ہیں، تاریخی کرداروں کی جھلکیاں پیش کی جارہی ہیں اور لاکھوں افراد اس تاریخی شہر کا رخ کررہے ہیں۔ مختلف ریاستوں نے بھی اپنی اپنی تاریخ کو قومی تاریخ سے جوڑتے ہوئے خصوصی نمائشوں، ثقافتی میلوں اور تعلیمی پروگراموں کا اہتمام کیا ہے۔
ملک بھر میں آج ہزاروں مقامات پر پریڈز ہوں گی۔ چھوٹے قصبوں سے لے کر بڑے شہروں تک لوگ امریکی پرچموں سے سجی گاڑیوں، بینڈز، سابق فوجیوں، اسکولوں اور مقامی تنظیموں کے جلوسوں میں شریک ہوں گے۔ شام کے وقت تقریباً ہر بڑی آبادی میں آتش بازی ہوگی، جسے امریکی یوم آزادی کی سب سے نمایاں روایت سمجھا جاتا ہے۔ پارکوں میں موسیقی کی محفلیں، باربی کیو پارٹیاں، کھیلوں کے مقابلے اور خاندانی پکنک بھی اس دن کا لازمی حصہ ہیں۔ کئی شہروں میں ڈرون شوز بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ روایتی آتش بازی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کیا جائے۔
اس تاریخی سال کے لیے کئی خصوصی یادگاری منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔ امریکی ٹکسال نے محدود تعداد میں یادگاری کوارٹر سکے جاری کیے ہیں جن پر 1776 اور 2026 دونوں سال درج ہیں۔ یہ سکے عام گردش میں بھی شامل کیے جارہے ہیں تاکہ لوگ انھیں یادگار کے طور پر محفوظ کرسکیں۔ اسی طرح مختلف ریاستوں میں خصوصی ڈاک ٹکٹ، نمائشیں، تاریخی دستاویزات کی نمائش اور قومی ورثے سے متعلق تعلیمی سرگرمیاں بھی منعقد ہورہی ہیں۔
اس سال ایک اور دلچسپ منصوبہ قومی ٹائم کیپسول ہے، جس میں موجودہ امریکا کی نمائندگی کرنے والی مختلف اشیا، خطوط، تصاویر اور تخلیقات محفوظ کی جائیں گی۔ یہ ٹائم کیپسول فلاڈیلفیا میں دفن کیا جائے گا اور اسے 250 سال بعد، یعنی 2276 میں کھولا جائے گا، تاکہ آئندہ نسلیں جان سکیں کہ امریکا نے اپنی ڈھائی سو سالہ سالگرہ کس ماحول میں منائی تھی۔
اس سال کی تقریبات صرف جشن تک محدود نہیں ہیں۔ امریکا میں اس وقت شدید سیاسی تقسیم، امیگریشن، نسلی تعلقات، جمہوریت کے مستقبل اور قومی شناخت جیسے موضوعات پر مباحثے ہورہے ہیں۔ اسی وجہ سے جہاں سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر جشن منایا جارہا ہے، وہیں بعض سماجی اور شہری تنظیمیں متبادل تقریبات کا انعقاد بھی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی کی سالگرہ صرف کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ ان وعدوں پر بھی غور کرنے کا وقت ہے جو ابھی تک مکمل طور پر پورے نہیں ہوسکے۔
یہ اختلاف رائے دراصل امریکی جمہوری روایت کا حصہ ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اسے دنیا کی کامیاب ترین جمہوری کہانی قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ افراد بھی ہیں جو غلامی، مقامی امریکی قبائل کے ساتھ ہونے والے سلوک، نسلی امتیاز اور جدید سیاسی کشیدگی کو بھی قومی تاریخ کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا دن بہت سے امریکیوں کے لیے جشن کے ساتھ ساتھ خود احتسابی اور مستقبل پر غور کا بھی موقع ہے۔
اس کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ ڈھائی صدیوں میں امریکا نے عالمی سیاست، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، ثقافت اور تعلیم پر غیر معمولی اثر ڈالا ہے۔ ایک زمانے کی نوآبادی آج دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت ہے۔ کروڑوں تارکین وطن نے اسی ملک میں آکر نئی زندگی شروع کی، نئی ایجادات وجود میں آئیں اور جدید دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں اور جامعات یہیں پروان چڑھیں۔ اسی لیے یوم آزادی صرف امریکی شہریوں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں امریکا سے وابستہ کروڑوں لوگوں کے لیے بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
US Department of State: Celebrating 250 Years of American History
New York Times: A Nation Unites for a Day of Grand 250th Celebrations