امریکا کے اعلان آزادی سے پہلے اور بعد میں کیا ہوا تھا؟

جنرل جارج واشنگٹن کی قیادت میں امریکی فوج نے طویل اور مشکل جنگ لڑی، برطانوی جنرل چارلس کارنوالس نے 1781 میں ہتھیار ڈالے، برطانیہ نے دو سال بعد نئے ملک کو تسلیم کیا

امریکا کے اعلان آزادی سے پہلے اور بعد میں کیا ہوا تھا؟

دنیا کی سب سے طاقتور ریاست تسلیم کیا جانے والا امریکا کبھی برطانیہ کے زیر نگیں تھا۔ یہاں برطانیہ کی تیرہ نوآبادیاں تھیں، جن پر لندن سے حکومت کی جاتی تھی۔ 4 جولائی 1776 کو ان نوآبادیوں نے ایسا اعلان کیا جس نے نہ صرف ایک نئے ملک کو جنم دیا بلکہ دنیا کی سیاست کا رخ بھی بدل دیا۔

شمالی امریکا کے مشرقی ساحل پر برطانیہ نے سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اپنی نوآبادیاں قائم کی تھیں۔ وقت کے ساتھ ان کی آبادی بڑھتی گئی، تجارت پھلنے پھولنے لگی اور مقامی لوگ خود کو برطانوی رعایا نہیں بلکہ ایک الگ معاشرہ سمجھنے لگے۔ برطانیہ بہرحال ان نوآبادیوں کو اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتا تھا اور ان پر مختلف قسم کے ٹیکس عائد کرتا رہتا تھا۔

برطانیہ اور فرانس کے درمیان 1756 سے 1763 تک سات سالہ جنگ ہوئی تھی۔ اس جنگ میں فتح کے باوجود برطانیہ پر بھاری قرض چڑھ گیا، جسے پورا کرنے کے لیے اس نے امریکی نوآبادیوں پر نئے ٹیکس لگا دیے۔ مقامی باشندوں کو اعتراض تھا کہ انھیں برطانوی پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل نہیں، اس لیے ان پر ٹیکس لگانا ناانصافی ہے۔ اسی دور میں مشہور نعرہ سامنے آیا، نو ٹیکسیشن ود آوٹ ریپریزنٹیشن یعنی نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں۔

اگلے چند برسوں میں دونوں فریقوں کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔ 1770 میں بوسٹن میں برطانوی فوجیوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی جسے بعد میں "بوسٹن قتل عام" کہا گیا۔ تین سال بعد 1773 میں برطانوی حکومت نے چائے پر ٹیکس برقرار رکھا تو مشتعل افراد نے بوسٹن کی بندرگاہ میں کھڑے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہازوں سے چائے کی سیکڑوں پیٹیاں سمندر میں پھینک دیں۔ یہ واقعہ "بوسٹن ٹی پارٹی" کے نام سے مشہور ہوا اور اس نے دونوں جانب کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

اس کے جواب میں برطانیہ نے سخت قوانین نافذ کیے جنھیں نوآبادیوں میں "ناقابل برداشت قوانین" کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد تیرہ نوآبادیوں کے نمائندے پہلی بار جمع ہوئے اور 1774 میں فلاڈیلفیا میں پہلی کانٹینینٹل کانگریس منعقد ہوئی۔ اپریل 1775 میں برطانوی فوج اور مقامی ملیشیا کے درمیان لیکسنگٹن اور کانکورڈ میں پہلی باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں۔ یہیں سے امریکی جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد بھی بہت سے رہنما مکمل آزادی کے بجائے برطانوی بادشاہ سے مفاہمت چاہتے تھے۔ لیکن حالات تیزی سے بدلتے گئے۔ جنوری 1776 میں تھامس پین نے اپنا مشہور کتابچہ کامن سینس شائع کیا، جس میں انھوں نے موقف اپنایا کہ برطانوی سلطنت کے ساتھ رہنے کے بجائے مکمل آزادی ہی واحد راستہ ہے۔ یہ کتابچہ بہت مقبول ہوا اور آزادی کی حمایت میں عوامی رائے تیزی سے بڑھنے لگی۔

جون 1776 میں ورجینیا کے رہنما رچرڈ ہنری لی نے تجویز پیش کی کہ نوآبادیوں کو آزاد ریاستیں قرار دیا جائے۔ اس کے بعد پانچ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں تھامس جیفرسن، جان ایڈمز، بینجمن فرینکلن، راجر شرمین اور رابرٹ لیونگسٹن شامل تھے۔ اس کمیٹی نے آزادی کا اعلامیہ تیار کیا، جس کا بنیادی مسودہ تھامس جیفرسن نے لکھا۔

دو جولائی 1776 کو کانٹینینٹل کانگریس نے آزادی کی قرارداد منظور کرلی، لیکن اعلامیے کے متن پر مزید بحث ہوئی۔ معمولی ترامیم کے بعد چار جولائی کو اس کی حتمی منظوری دی گئی۔ اسی لیے امریکا میں یوم آزادی چار جولائی کو منایا جاتا ہے۔

اعلان آزادی کی سب سے مشہور سطر یہ ہے، "ہم ان حقائق کو بدیہی سمجھتے ہیں کہ تمام انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں، اور انھیں ان کے خالق کی طرف سے ایسے حقوق عطا کیے گئے ہیں جنھیں چھینا نہیں جاسکتا، جن میں زندگی، آزادی اور خوشی کے حصول کا حق شامل ہے۔"

یہ الفاظ بعد میں پوری دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک علامت بن گئے۔ اگرچہ اس وقت امریکا میں غلامی موجود تھی اور خواتین کو بھی مساوی حقوق حاصل نہیں تھے، لیکن ان اصولوں کو بنیاد بنا کر بعد کی نسلوں نے غلامی کے خاتمے، شہری حقوق اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی۔

اعلان آزادی منظور ہونے کے بعد جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل امتحان شروع ہوا۔ برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت تھا جبکہ نوآبادیوں کے پاس محدود وسائل تھے۔ جنرل جارج واشنگٹن کی قیادت میں امریکی فوج نے طویل اور مشکل جنگ لڑی۔ ابتدا میں انھیں کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ فرانس نے امریکا کی حمایت شروع کردی۔ فرانسیسی فوج، بحریہ اور مالی امداد نے جنگ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ورجینیا کے شہر یارک ٹاؤن میں 1781 میں برطانوی جنرل چارلس کارنوالس نے ہتھیار ڈال دیے۔ اگرچہ امن معاہدہ دو سال بعد ہوا، لیکن یہی وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے برطانیہ کی شکست یقینی بنادی۔

برطانیہ نے 1783 میں پیرس معاہدے کے ذریعے باضابطہ طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کی آزادی تسلیم کرلی۔ اس کے بعد نئے ملک نے اپنا آئین تیار کیا، وفاقی نظام قائم کیا اور 1789 میں جارج واشنگٹن امریکا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

امریکی تاریخ کا سفر آسان نہیں رہا۔ غلامی، خانہ جنگی، نسلی امتیاز، معاشی بحران، عالمی جنگیں اور سیاسی اختلافات اس سفر کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود چار جولائی 1776 کا اعلان آج بھی امریکی ریاست کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکا اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے تو وہ صرف ایک جنگ میں فتح کو یاد نہیں کرتا بلکہ آزادی، عوامی نمائندگی، قانون کی حکمرانی اور فرد کے بنیادی حقوق جیسے اصولوں کو بھی دوہراتا ہے جن پر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

National Archives: America's Founding Documents

Office of the Historian: The Declaration of Independence, 1776

Encyclopedia Britannica: American Revolution