امریکا ایران ڈیل میں اسرائیل کے لیے کیا ہے، یا محض ناراض تماشائی ہے؟
اسرائیلی حکام کو معاہدے کی مکمل تفصیلات تک رسائی نہیں دی گئی، کئی معاملات واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست طے ہوئے
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور سیاسی مفاہمت کے بعد اسرائیلی سیاست دان، تجزیہ کار اور عوام سوال کررہے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ سے کیا حاصل کیا اور امریکا ایران ڈیل میں ان کے لیے کیا ہے؟ گزشتہ دو دہائیوں سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کی پوری سیاسی شناخت ایران کے خلاف سخت موقف، ایرانی جوہری پروگرام کی مخالفت اور واشنگٹن پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لیکن امریکا ایران ڈیل نے پہلی بار یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ خطے کے سب سے اہم سفارتی معاہدے میں اسرائیل مرکزی کردار کے بجائے ایک ناراض تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا، اپوزیشن جماعتوں اور بعض سابق سکیورٹی حکام کے مطابق یہ معاہدہ صرف امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اسرائیل کی توقع تھی کہ اس جنگ کا اختتام ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں خصوصاً حزب اللہ کے خاتمے یا اس کے خلاف سخت شرائط پر ہوگا۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق معاہدے میں ان نکات کا واضح ذکر موجود نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود نہیں کرتا، نہ ہی حزب اللہ اور حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی مالی یا عسکری معاونت کو روکنے کے لیے کوئی واضح شق شامل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں اس معاہدے کو منفی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اسے "اسرائیل اور آزاد دنیا کے لیے برا معاہدہ" قرار دیا، جبکہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے صاف کہا کہ "ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا"۔
اسرائیل کا سب سے بڑا اعتراض لبنان کے مسئلے پر ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوگی، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کے لیے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔ اسرائیل کے دفاعی اور انٹیلی جنس حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اس سے حزب اللہ کو دوبارہ منظم ہونے اور لبنان میں اپنی سیاسی و عسکری حیثیت مضبوط کرنے کا موقع مل جائے گا۔ موساد کے سابق عہدیدار سیما شائن کے مطابق امریکا نے لبنان کے معاملے میں ایران کو غیر معمولی چھوٹ دی ہے جس پر اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں۔
اس معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیل مذاکراتی عمل سے تقریباً باہر رہا۔ فارن پالیسی اور اکانومسٹ، دونوں جریدوں کے مطابق اسرائیلی حکام کو معاہدے کی مکمل تفصیلات تک بھی رسائی نہیں تھی اور کئی معاملات واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست طے ہوئے۔
یہ صورتحال نتین یاہو کے لیے صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی بحران بھی ہے۔ ان کی پوری سیاسی زندگی اس دعوے پر قائم رہی ہے کہ وہ امریکا میں اسرائیل کے سب سے مؤثر نمائندے ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلقات اسرائیل کی سکیورٹی کی ضمانت ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے نتین یاہو پر کھلی تنقید، بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد سخت ناراضی اور ایران کے ساتھ معاہدے کو ہر قیمت پر بچانے کی کوششوں نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بی بی سی کے مطابق نتین یاہو اب ایک مشکل انتخاب کے سامنے ہیں۔ اگر وہ معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں تو امریکا کے ساتھ براہِ راست تصادم کا خطرہ ہے، اور اگر وہ خاموشی سے اسے قبول کرتے ہیں تو ان کے سیاسی حامی انھیں اسرائیلی مفادات کے خلاف جھکنے والا لیڈر قرار دے سکتے ہیں۔
یہ کہنا دشوار ہے کہ اسرائیل معاہدے پر مکمل عمل کرے گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل دوہری حکمتِ عملی اختیار کرسکتا ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے ساتھ کھلی محاذ آرائی سے گریز کرے گا، دوسری طرف اپنے مفادات کے لیے ضروری کارروائیاں کرتا رہے گا۔ فارن پالیسی کے مطابق اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ اب امریکی اسلحے اور امداد پر انحصار کم کرنے، مقامی اسلحہ سازی بڑھانے اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرنے پر غور کررہی ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اکتوبر میں متوقع اسرائیلی انتخابات کے تناظر میں یہ معاہدہ نتین یاہو کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اکانومسٹ کے مطابق انھوں نے ایران کے خلاف جنگ کو تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی حکومت برقرار رہی، ایران کا میزائل پروگرام ختم نہیں ہوا، حزب اللہ مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں ہوئی اور امریکا نے اسرائیل کی خواہشات کے برعکس ایران کے ساتھ مفاہمت کرلی۔
اسرائیلی اپوزیشن مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ نتین یاہو نے جنگ تو شروع کی لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے۔ بعض عوامی جائزوں میں وہ مشکلات کا شکار دکھائی دے رہے تھے، اور اب ان کے مخالفین کے پاس یہ دلیل بھی آگئی ہے کہ ان کی ایران پالیسی نے اسرائیل کو زیادہ محفوظ بنانے کے بجائے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔
اگر امریکا ایران معاہدہ برقرار رہتا ہے تو نتین یاہو کو اپنی سیاست کی بنیادی کہانی نئے سرے سے لکھنا پڑے گی۔ اگر معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو وہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان کے تحفظات درست تھے۔ لیکن فی الحال ایسا لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت نے اسرائیل اور نتین یاہو کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
The Economist: The end of the war in Iran threatens “glorious failure” for Israel
New York Times: Israel Counts the Ways That Netanyahu’s Iran Strategy Failed
BBC: Iran deal presents political nightmare for Netanyahu
Haaretz: Trump and Netanyahu Are Hurtling Toward a Rupture That Could Shock U.S.-Israel Ties
Foreign Policy: Israel Has a Plan to Keep Calling Its Own Shots