میں اپنی کلاس میں ٹیکنالوجی کا استعمال محدود کررہا ہوں

سیکھنے کا آغاز ٹیکنالوجی سے نہیں ہونا چاہیے، پہلے طلبہ کو بنیادی علم اور مہارتیں آزمودہ طریقوں سے سکھائی جائیں، بعد میں ٹیکنالوجی کو معاون کے طور پر شامل کیا جائے

میں اپنی کلاس میں ٹیکنالوجی کا استعمال محدود کررہا ہوں

ڈیوڈ کٹلر، ایجوٹوپیا

ہائی اسکول میں بیس برس تدریس کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ اگرچہ تعلیمی ٹیکنالوجی سیکھنے کے مواقع بڑھا سکتی ہے، لیکن یہ ان بڑے دعوؤں پر پوری نہیں اترتی جو اس کے بارے میں کیے جاتے ہیں۔ آج بھی مجھے یقین نہیں کہ بڑے پیمانے پر اس کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہیں۔ اسی لیے میں اپنی کلاس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

میری تشویش جیرڈ کونی ہورواتھ کی نئی کتاب میں پیش کیے گئے دلائل اور تحقیق سے بہت حد تک ملتی ہے۔ اس کا عنوان ہے، "دی ڈیجیٹل ڈلیوژن: کلاس روم ٹیکنالوجی ہمارے بچوں کی تعلیم کو کیسے نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں دوبارہ کیسے ترقی دی جاسکتی ہے۔" یہ ان چند کتابوں میں سے ہے جنھوں نے حالیہ برسوں میں مجھ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا۔ ہورواتھ نے تحقیق کی بنیاد پر بتایا ہے کہ جب طلبہ ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکھتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انھیں واضح رہنمائی حاصل نہ ہو، تو وہ وقتی طور پر تو ٹُول استعمال کرتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، لیکن ان کی سمجھ میں زیادہ کچھ آتا، وہ چیزیں زیادہ دیر تک یاد نہیں رکھ پاتے، اور بعد میں دوسرے حالات میں ان معلومات کو استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

جب میری ہورواتھ سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی پر تحقیق اب تک نمایاں تعلیمی نتائج نہیں دکھا سکی، اس کے باوجود اسے مسلسل اساتذہ پر مسلط کیا جارہا ہے۔ اس صورت حال کو سمجھانے کے لیے انھوں نے ایک مثال دی۔

انھوں نے کہا، "اگر میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میرے پاس آپ کو دینے کے لیے دو گولیاں ہوں، تو میرا مقصد آپ کو صحت مند بنانا ہوگا۔ ایک گولی ایسی ہے جس کے مؤثر ہونے کا مجھے یقین ہے، جبکہ دوسری کبھی آزمائی ہی نہیں گئی۔ آپ کون سی لینا پسند کریں گے؟ ظاہر ہے پہلی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پہلی گولی کڑوی ہے جبکہ دوسری ٹافی جیسی میٹھی۔ اب آپ کون سی چُنیں گے؟ اگر آپ پھر بھی پہلی کو چنتے ہیں تو یہی اصل سیکھنا ہے۔"

ہورواتھ کی باتوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے طلبہ سے تعلیمی ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے بارے میں گفتگو کا انداز بدلوں۔ میں سب سے پہلے طلبہ پر واضح کرتا ہوں کہ گہری اور دیرپا تعلیم صرف محنت اور جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ میری کلاس کی دیوار پر ایک جملہ لکھا ہے، "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ آسان ہوگا، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فائدہ مند ہوگا۔"

یہ جملہ دراصل اس چیز کی حفاظت کی کوشش ہے جو آسان راستوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث خطرے میں پڑچکی ہے۔ ہورواتھ نے بھی اس بات کی تائید کی کہ طلبہ کو ذہنی مشقت سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں کہ میں ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں ہوں، لیکن کچھ سیکھنے کے لیے توجہ، محنت اور ذہنی مشقت ضروری ہے۔ میں یہ بات کلاس روم ٹیکنالوجی پر ہونے والی گفتگو میں بار بار دہراتا ہوں۔

ہورواتھ نے ایک اور مثال دی، "جم جاکر ورزش کریں۔ ورزش کرنا مزے کی چیز نہیں۔ اصل خوشی ورزش مکمل ہونے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جس ایک گھنٹے میں آپ ورزش کررہے ہوتے ہیں، وہ کافی مشکل ہوتا ہے۔"

نہ میں چاہتا ہوں اور نہ ہی ہورواتھ یہ چاہتے ہیں کہ طلبہ کلاس روم میں تکلیف محسوس کریں۔ تعلیم خوشگوار بھی ہوسکتی ہے، اس میں لطف بھی آسکتا ہے، لیکن اصل مقصد لطف نہیں بلکہ ترقی ہے، اور ترقی ہمیشہ محنت مانگتی ہے۔

اسی سوچ نے مجھے مجبور کیا کہ میں طلبہ کو زیادہ واضح انداز میں سمجھاؤں کہ میں اپنی کلاس میں کچھ فیصلے کیوں کرتا ہوں۔ صرف یہ کہنے کے بجائے کہ ٹیکنالوجی بری چیز ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ انسانی دماغ دراصل سیکھتا کیسے ہے۔ ہورواتھ کے مطابق جب طلبہ یہ سمجھ جائیں کہ سیکھنے کا عمل کیسے کام کرتا ہے، تو وہ خود ہی بہتر مطالعے کی عادتیں اپنانے لگے۔ انھیں الگ سے سمجھانے کی ضرورت نہ رہتی۔

میں نے اپنے طلبہ کے ساتھ بروکنگز انسٹیٹیوشن کی ایک تحقیق بھی شیئر کی، جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت بچوں کی تعلیم میں جنریٹو اے آئی کے استعمال کے خطرات اس کے فوائد پر غالب ہیں۔ لیکن ہم نے تحقیق کے اس حصے پر بھی بات کی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر اے آئی ٹولز کو تعلیمی اصولوں کے مطابق اور درست انداز میں استعمال کیا جائے تو وہ طلبہ کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

جب طلبہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ پھر کلاس روم میں اے آئی یا دوسری ٹیکنالوجی کب استعمال ہونی چاہیے، تو میں خود سے ایک سوال کرتا ہوں، "کیا یہ ٹیکنالوجی طلبہ کو وہ کام کرنے میں مدد دے رہی ہے جو وہ پہلے ہی سیکھ چکے ہیں، یا یہ اس سوچنے کے عمل کو ختم کررہی ہے جو ان کے سیکھنے کے لیے ضروری ہے؟"

اگر مجھے محسوس ہو کہ ٹیکنالوجی سوچنے کے عمل کو ختم کررہی ہے تو میں روایتی طریقوں کی طرف واپس چلا جاتا ہوں، جیسے کلاس روم میں مباحثے، پرنٹ شدہ مواد پر گفتگو، یا گروپ سیمینار۔

میں اپنی کلاس میں ٹیکنالوجی صرف اس وقت استعمال کرتا ہوں جب طلبہ کسی یونٹ کو مکمل طور پر پڑھ چکے ہوں۔ اس کے بعد میں ٹیکنالوجی کو صرف دوہرانے اور جائزہ لینے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ اگر طلبہ کلاس میں اے آئی استعمال کرتے بھی ہیں تو وہ اسے ایک معاون کے طور پر استعمال کرتے ہیں، متبادل کے طور پر نہیں۔

ہورواتھ کا یہ کہنا درست ہے کہ سیکھنے کا آغاز ٹیکنالوجی سے نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے طلبہ کو بنیادی علم اور مہارتیں روایتی اور آزمودہ طریقوں سے سکھائی جائیں، بعد میں ٹیکنالوجی کو معاون کے طور پر شامل کیا جائے۔


ڈیوڈ کٹلر کا انگریزی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

Edutopia: Why and How I’m Limiting Screen Time in My Classroom