میسی، ایمباپے، ایرلنگ ہالینڈ، گولڈن بوٹ کون جیتے گا؟
ارجنٹینا کے کپتان ہیٹ ٹرک سمیت پانچ گول کرچکے ہیں، ایمباپے اور ہالینڈ نے چار چار گول اسکور کیے ہیں، ہیری کین کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
فیفا ورلڈکپ میں سنہری ٹرافی کا جیتنا اجتماعی اعزاز ہوتا ہے لیکن انفرادی اعزاز سنہری بوٹ کی اہمیت بھی کم نہیں۔ عام طور پر اس کے امیدوار ناک آوٹ مرحلے کے موقع پر واضح ہوتے ہیں لیکن اس بار ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے ہی میں کئی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی نے شائقین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ اس وقت دنیا کے چار بڑے اسٹرائیکرز پے در پے گول اسکور کررہے ہیں اور کئی مبصرین اسے ورلڈکپ کی تاریخ کی یادگار ترین گولڈن بوٹ ریس قرار دے رہے ہیں۔
اس مقابلے کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ بڑے نام آگے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ تاریخ میں صرف دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ورلڈکپ کے ابتدائی دو میچوں میں تین کھلاڑی چار یا اس سے زیادہ گول کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے ایسا 1954 کے ورلڈکپ میں دیکھنے کو ملا تھا۔
سب سے زیادہ توجہ کا مرکز دفاعی چیمپین ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی ہیں۔ 38 سالہ اسٹرائیکر نے الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک سے آغاز کیا اور پھر آسٹریا کے خلاف دو گول کرکے نہ صرف اپنی ٹیم کو اگلے مرحلے میں پہنچایا بلکہ ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے۔ اب ان کے ورلڈکپ گولوں کی تعداد 18 ہوچکی ہے، جو جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے 16 گولوں کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
میسی کے حق میں ایک دلیل یہ ہے کہ ارجنٹینا کا راستہ نسبتاً آسان دکھائی دیتا ہے۔ گروپ مرحلے میں ان کا آخری مقابلہ اردن سے ہے، جبکہ ناک آؤٹ مرحلے میں بھی قرعہ اندازی انھیں سیمی فائنل تک نسبتاً آسان حریف دے سکتی ہے۔ اگر ارجنٹینا فائنل تک پہنچ جائے تو میسی کو سات یا آٹھ میچ کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس طرح وہ پہلی بار گولڈن بوٹ جیت سکتے ہیں۔ اپنی تمام عظمت کے باوجود میسی کبھی ورلڈکپ گولڈن بوٹ نہیں جیت سکے۔ 2022 میں وہ صرف ایک گول کے فرق سے ایمباپے سے پیچھے رہ گئے تھے۔
اگر میسی تجربے اور تسلسل کی علامت ہیں تو کیلیان ایمباپے رفتار اور دھماکا خیزی کا استعارہ ہیں۔ فرانسیسی اسٹار نے سینیگال اور عراق کے خلاف دو دو گول کرکے مجموعی تعداد چار تک پہنچادی ہے۔ ایمباپے 2022 کا گولڈن بوٹ جیت چکے ہیں اور وہ ورلڈکپ کی تاریخ کے پہلے ایسے کھلاڑی بن سکتے ہیں جو ایک سے زیادہ بار یہ اعزاز حاصل کریں۔
فرانس کے پاس شاید ٹورنامنٹ کی سب سے خطرناک اٹیکنگ لائن موجود ہے جس میں عثمان ڈیمبیلے، دیزیرے دوئے اور مائیکل اولیسے جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی تجزیہ کار ایمباپے کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ان کے راستے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ فرانس کو ناک آؤٹ مرحلے میں جرمنی جیسے مضبوط حریف کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اگر فرانسیسی ٹیم توقع سے پہلے باہر ہوگئی تو ایمباپے کی گولڈن بوٹ کی امیدیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب ایرلنگ ہالینڈ شاید دنیا کے خالص ترین اسٹرائیکر ہیں۔ ناروے کے فارورڈ نے عراق اور سینیگال دونوں کے خلاف دو دو گول کیے ہیں اور اپنے پہلے ورلڈ کپ میں ثابت کردیا ہے کہ بڑے اسٹیج کا دباؤ انھیں متاثر نہیں کرتا۔ بی بی سی کے مطابق وہ ورلڈکپ کی تاریخ کے صرف چھٹے کھلاڑی ہیں جنھوں نے اپنے پہلے دو ورلڈکپ میچوں میں ایک سے زیادہ گول کیے۔
ہالینڈ کے حق میں سب سے بڑی دلیل ان کی غیر معمولی گول اسکورنگ کی صلاحیت ہے۔ خود ہالینڈ کا کہنا ہے کہ گول کرنا ان کی خاصیت ہے اور وہ واقعی گول کرنے میں بہت اچھے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف سب سے مضبوط دلیل ناروے کی ٹیم ہے۔ فرانس اور ارجنٹینا کے برعکس ناروے کو ٹورنامنٹ کا فیورٹ نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ناروے کو جلد کسی مضبوط حریف کے ہاتھوں شکست ہوگئی تو ہالینڈ کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔
انگلینڈ کے ہیری کین کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو 2018 کے ورلڈکپ میں گولڈن بوٹ جیت چکے ہیں۔ وہ یورپی سیزن میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں میں شامل رہے اور ورلڈکپ کے پہلے میچ میں بھی دو گول کر ڈالے۔ اب انھیں گروپ مرحلے میں گھانا اور پاناما جیسے حریفوں کے خلاف کھیلنا ہے۔ خاص طور پر پاناما کے خلاف 2018 میں ان کی ہیٹ ٹرک آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
اس بار گولڈن بوٹ کی دوڑ کو ورلڈکپ کے نئے 48 ٹیموں والے فارمیٹ نے بھی دلچسپ بنایا ہے۔ زیادہ کمزور ٹیموں کی موجودگی اور ناک آؤٹ مرحلے کے ایک اضافی راؤنڈ کا مطلب یہ ہے کہ بڑے اسٹرائیکرز کو پہلے سے زیادہ میچ اور زیادہ مواقع میسر ہیں۔ اسی لیے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ 1958 میں فرانسیسی لیجنڈ جسٹ فونٹین کے ایک ورلڈکپ میں 13 گولوں کے ریکارڈ کو بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
ESPN: Messi, Haaland, Mbappé, Kane, Who will be the World Cup's top scorer?
The Telegraph: Messi, Mbappe or Haaland, Who will win golden boot race for the ages?
BBC: A Golden Boot race for the ages - but who will come out on top?