غزہ کے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ، اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام

غزہ کے بچوں کی ہلاکتیں فلسطینی معاشرے کے مستقبل کو کمزور کرنے کی منظم حکمت عملی کا حصہ تھیں، اقوام متحدہ کے کمیشن کا الزام، اسرائیل نے الزامات مسترد کردیے

غزہ کے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ، اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام

اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو غیر متناسب اور دانستہ طور پر نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور بعض صورتوں میں نسل کشی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ انڈی پینڈنٹ انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری کی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا عنوان کا عنوان دا ایسنس آف چائلڈہوڈ ہیز بین ڈسٹروئیڈ ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی جنگ کو شروع ہوئے تقریباً ڈھائی سال ہوچکے ہیں اور اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود ہلاکتوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔ رپورٹ کی اشاعت کے فوراً بعد اسرائیل نے اسے "جھوٹ، تعصب اور سیاسی پروپیگنڈا" قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے بچوں کے خلاف جنگ کے سنگین پہلوؤں کی دستاویزی شہادت قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 31 مارچ 2026 تک کم از کم 20,179 فلسطینی بچے ہلاک اور 44,143 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد جدید جنگوں میں بچوں کی ہلاکتوں کی بلند ترین شرحوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ دو سال کے عرصے میں ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے، جبکہ زخمیوں میں بھی بچوں کا تناسب ایک چوتھائی سے زیادہ رہا۔

رپورٹ کی سب سے متنازع اور اہم بات یہ ہے کہ کمیشن نے "معقول بنیادوں" پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فلسطینی بچوں کی ہلاکتیں محض جنگ کا ضمنی نقصان نہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کے مستقبل کو کمزور کرنے کی منظم حکمتِ عملی کا حصہ تھیں۔ کمیشن کے سربراہ سری نواسن مرلی دھر کے مطابق بچوں کو نشانہ بنا کر فلسطینی عوام کی آئندہ نسل اور ان کے حق خودارادیت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رپورٹ میں متعدد ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں بچوں کو ڈرونز، اسنائپرز یا فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ کمیشن نے بعض فرانزک شواہد، طبی رپورٹس اور ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ کچھ بچوں کو جسم کے حساس حصوں میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ اسی طرح رہائشی عمارتوں، اسکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر ہونے والے حملوں میں بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت کو بھی رپورٹ نے خصوصی طور پر اجاگر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ گنجان آباد علاقوں میں بھاری بموں اور وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال تھا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے پورے پورے خاندان ختم ہوگئے۔ ایک مثال میں مئی 2025 میں خان یونس کے ایک گھر پر حملے کا ذکر کیا گیا جس میں دس میں سے نو بچے اور ان کے والد ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے صرف ہلاکتوں ہی کا ذکر نہیں کیا بلکہ بچوں کی نفسیاتی، تعلیمی اور طبی حالت پر بھی تفصیلی بحث کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپتالوں، زچگی مراکز، نوزائیدہ بچوں کے یونٹس، اسکولوں اور یتیم خانوں کو پہنچنے والے نقصان نے بچوں کی زندگی پر طویل المدت اثرات مرتب کیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق صحت اور تعلیم کے نظام کی تباہی نے ایک پوری نسل کی نشوونما اور مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ناکابندی اور امدادی پابندیوں کے باعث بچوں میں غذائی قلت، بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہوا۔ کمیشن کے مطابق دو سال کے دوران غزہ کی شرح پیدائش میں نمایاں کمی آئی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جسے رپورٹ نے "آبادی کے تسلسل" پر حملے کے تناظر میں دیکھا ہے۔

ایک اور اہم الزام فلسطینی نابالغوں کی گرفتاریوں اور حراست سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاص طور پر نوعمر لڑکوں کو گرفتار کرکے ایسے مراکز میں رکھا گیا جہاں تشدد، جسمانی بدسلوکی اور بعض صورتوں میں جنسی تشدد کے الزامات سامنے آئے۔ کمیشن نے کہا کہ بہت سے بچوں کو وکیل اور والدین تک رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔
اسرائیل نے رپورٹ کے تمام اہم نتائج مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ اور جنیوا میں اسرائیلی مشن کا کہنا ہے کہ کمیشن نے حماس کے حملوں، اسرائیلی بچوں کے قتل اور اغوا، اور فلسطینی علاقوں میں حماس کی عسکری سرگرمیوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس نے شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ہزاروں داخلی جائزے اور درجنوں فوجداری تحقیقات جاری ہیں۔ اخبار نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ہر اس شخص کو "بچہ" شمار کرتی ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہو، جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 16 اور 17 سال عمر کے ایسے مسلح جنگجو بھی شامل تھے جو حماس کے لیے لڑ رہے تھے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یونیسیف نے حال میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی بچہ ہلاک ہورہا ہے۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنگ بندی کو "ایک سفاک اور مہلک فریب" قرار دیا کیونکہ بچوں کی ہلاکتیں رکنے کے بجائے جاری رہیں۔

بین الاقوامی عدالتیں آخرکار نسل کشی کے الزام کو تسلیم کریں یا نہ کریں، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ غزہ کی جنگ نے بچوں کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں بچے مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے، اسکول تباہ ہوئے اور ایک پوری نسل مسلسل خوف، بھوک اور عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ غزہ کے بچوں کے مستقبل کا سوال اب محض فلسطین یا اسرائیل کا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کا مسئلہ بن چکا ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

UN Independent International Commission: Israel’s deliberate targeting of Palestinian children in the Occupied Palestinian Territory since 7 October 2023

New York Times: U.N. Report Says Israeli Killings of Gaza Children Post-Truce Amount to Genocide

BBC: UN commission of inquiry says Israel committing genocide in Gaza by deliberately targeting children

The Jerusalem Post: New UN inquiry, Israel 'deliberately' killed Palestinian children, resulting in genocide