طبع زاد
علامہ ضمیر اختر اپنے زمانے کے انیس تھے
علامہ صاحب منبر پر تاریخ پڑھتے، اسے دلچسپ انداز میں سناتے، آواز سے منظر کشی کرتے، باڈی لینگویج سے سمجھاتے، پھیکا سیٹھا خطاب نہیں ہوتا تھا، مکمل پرفارمنس ہوتی تھی
طبع زاد
علامہ صاحب منبر پر تاریخ پڑھتے، اسے دلچسپ انداز میں سناتے، آواز سے منظر کشی کرتے، باڈی لینگویج سے سمجھاتے، پھیکا سیٹھا خطاب نہیں ہوتا تھا، مکمل پرفارمنس ہوتی تھی
طبع زاد
لیجینڈری حیثیت والے سچے بھائی کے کئی نوحے پاکستانی شیعوں کا گویا قومی ترانہ بن گئے، کوئی بھی انجمن ہو، کوئی بھی جلوس ہو، ان کے نوحے پڑھے جاتے ہیں
طبع زاد
ایک بار میں نے علامہ صاحب سے اپنی گمراہی کا ذکر کیا، انھوں نے ڈانٹنے کے بجائے علمی گفتگو شروع کردی کہ اگر گمراہ ہونا ہے تو ٹھیک طرح سے ہوجاؤ، ادھورا علم کسی کام کا نہیں ہوتا
طبع زاد
سینئر پروڈیوسر نے آواز لگائی، بُوٹے! میں نے بتایا کہ بُوٹا نہیں ہے، انھوں نے دریافت کیا، پھر کون ہے؟ میں نے جواب دیا، برگد کا درخت ہے
طبع زاد
خالد ایچ خان نے دی نیوز کے بعد ڈان میں کام کیا، میں پریس بکس میں دیکھتا کہ اچھے اچھے رپورٹر اپنی رپورٹ فائل کرنے سے پہلے انھیں کاپی دکھاتے تھے
طبع زاد
میں روز خواب میں دیکھتا تھا کہ ٹیسٹ ڈیبو پر گیری سوبرز کے 365 رنز کی اننگز اور جم لیکر کی ایک ٹیسٹ میں 19 وکٹوں کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے
طبع زاد
میں سہرا باندھے بیٹھا تھا کہ عدنان نے پانچ روپے والے نوٹوں کا ہار گلے میں ڈال دیا، خوب قہقہے لگے، میں نے کہا، تیری شادی پر یہی کروں گا، عدنان نے شادی اتنی دیر سے کی کہ پانچ کے نوٹ ہی بند ہوگئے
طبع زاد
وہ اپنے گھر کے بارے میں کئی قصے سناتی تھیں، عام ضعیف الاعتقاد عورتوں والے قصے، مثلاََ اقبال صاحب نے بتایا ہے کہ اس گھر میں کسی مردے کی کھوپڑی یا ہڈی دفن ہے
طبع زاد
انچولی میں ان دنوں ٹینس اور ٹیپ بال کے بہت کرکٹ ٹورنامنٹ ہوتے تھے، شہر بھر کی ٹیمیں آتیں، دو تین ٹیمیں مقامی ہوتیں جن میں ایک کا نام سادات تھا اور دوسری کا السید
طبع زاد
انور شاہ جی مجھے مسجد کی چھت پر لے گئے اور آم کا پیڑ دکھایا جس پر دسمبر میں کیریاں نکل رہی تھیں، انھوں نے اسے معجزہ قرار دیا، بعد میں معلوم ہوا کہ آم کی بعض اقسام سردیوں میں پھل دیتی ہیں
طبع زاد
محمد حسین کاتب جنگ سے ریٹائر ہوئے تھے، بزرگی میں بھی نیکر ٹی شرٹ پہن کر شام کو میدان میں جاتے اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ فٹبال کھیلتے
طبع زاد
ہمیں کچھ پتا نہیں تھا کہ نفسی صاحب کتنے بڑے آدمی ہیں اور شہزادی خالا کتنی مشہور ہیں، ہماری دلچسپی صرف آم کے درخت میں رہتی تھی جو ان کے آنگن میں لگا تھا
کچھ لکھیں...