طلبہ کے 370000 مضامین پڑھ کر کیا پتا چلا؟
چیٹ جی پی ٹی آنے کے بعد طلبہ کی زبان بہتر ہوگئی، نئے خیالات کم ہوگئے، امریکی اساتذہ اے آئی کی مدد سے لکھے گئے مضامین کو شناخت کرنے والے ٹول استعمال کررہے ہیں
مصنوعی ذہانت نے دنیا بھر کے تعلیمی نظاموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن اس کے سب سے بڑے اثرات شاید لکھنے اور سوچنے کے عمل پر پڑ رہے ہیں۔ چند سال پہلے تک طلبہ انٹرنیٹ سے معلومات ڈھونڈتے تھے، پھر انھیں اپنے الفاظ میں ترتیب دیتے تھے۔ اب چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹول چند سیکنڈ میں مکمل مضمون، اسائنمنٹ اور یہاں تک کہ "تخلیقی" تحریر بھی تیار کردیتے ہیں۔ امریکا کے کالجوں اور جامعات میں اس تبدیلی پر گرما گرم بحث جاری ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان جیسے ملکوں میں بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں، جہاں طلبہ پہلے ہی رٹے، نقل اور کمزور مطالعے کے مسائل کا شکار تھے۔
اٹلانٹک میگزین کے مضمون دا کالج ایسسے از ڈیڈ یعنی کالج مضمون کی موت میں اسٹیفن مارچ نے لکھا کہ چیٹ جی پی ٹی نے روایتی مضمون نگاری کے تصور کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اب ایسے مضامین تیار کیے جاسکتے ہیں جنھیں کوئی بھی استاد بآسانی اچھا نمبر دے سکتا ہے، حالانکہ وہ کسی انسان نے نہیں بلکہ اے آئی نے لکھے ہوتے ہیں۔ یہ فقط نقل نہیں ہے بلکہ اس پورے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہے جس میں مضمون نگاری کو سوچنے، تحقیق کرنے اور اظہار سکھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
پاکستانی طلبہ کے لیے یہ مسئلہ شاید اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی بہت سے طلبہ گائیڈز، تیار شدہ نوٹس یا خلاصوں پر انحصار کرتے تھے۔ اب اے آئی بھی ہر سوال کا تیار جواب دے رہی ہے جس سے حقیقی مطالعے، تنقیدی سوچ اور زبان کی مشق مزید کمزور ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے تعلیمی ماحول میں یہ زیادہ نقصان دہ ہے جہاں نمبر لینا ہی اصل مقصد ہوتا ہے۔
اس خطرے کے پیش نظر امریکا اور یورپ کی بہت سی یونیورسٹیوں نے ایسے سافٹ ویئر اور ڈیٹیکشن ٹولز استعمال کرنا شروع کردیے ہیں جو اے آئی کی مدد سے لکھے گئے مضامین کی شناخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرنیٹن، جی پی ٹی زیرو اور اسی نوعیت کے دوسرے پلیٹ فارم اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ کسی مضمون میں انسانی تحریر کتنی ہے اور مشینی انداز کس قدر ہے۔ اگرچہ یہ ٹولز ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتے، لیکن اساتذہ اب طلبہ کی تحریر کے انداز، ہاتھ سے لکھے گئے کام اور کلاس روم میں مباحثے کو بھی ساتھ ملا کر جانچنے لگے ہیں۔ پاکستان میں ابھی یہ نظام عام نہیں ہوا، لیکن جیسے جیسے اے آئی کا استعمال بڑھے گا، ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نیویارک ٹائمز میں ریبیکا ونتھروپ نے اس مسئلے کو ایک اور زاویے سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق اصل خطرہ یہ نہیں کہ اے آئی طلبہ کے مضامین لکھ کر دے رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کی سوچنے کی صلاحیت کو محدود کرسکتی ہے۔ برین اسٹرومنگ یعنی خیالات پیدا کرنے کا عمل حقیقت میں لکھنے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر یہی مرحلہ اے آئی کے حوالے کردیا جائے تو انسان کی تخلیقی قوت کمزور پڑجاتی ہے۔
مضمون میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے محقق ایڈم گرین کی تحقیق کا ذکر کیا گیا ہے جس میں تین لاکھ ستر ہزار سے زیادہ طلبہ کے مضامین کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی آنے کے بعد مضامین کی زبان زیادہ بہتر اور خوبصورت ہوگئی، لیکن ان میں نئے اور منفرد خیالات کم ہوگئے۔ ایک اور تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ انسانوں کے لکھے ہوئے مضامین میں اے آئی کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ نئے خیالات موجود تھے۔
اسٹیفن مارچ کے مطابق ادب، تاریخ، فلسفہ اور سماجیات جیسے مضامین کی اہمیت اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ٹیکنالوجی بنانے والوں کو بھی انسانی نفسیات، اخلاقیات اور زبان کی سمجھ درکار ہوگی، ورنہ وہ ایسے نظام بنائیں گے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیو جابز جیسے لوگوں نے ہمیشہ ہیومینیٹیز کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسری طرف اے آئی کے فوائد بھی واضح ہیں۔ یہ زبان کی غلطیاں درست کرسکتی ہے، تحقیق میں مدد دے سکتی ہے، اور ایسے طلبہ کے لیے سہولت پیدا کرسکتی ہے جو انگریزی میں کمزور ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لاکھوں طلبہ انگریزی زبان کے دباؤ کا شکار رہتے ہیں، اے آئی مفید تعلیمی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا اسے مددگار رکھا جائے گا یا متبادل استاد بنادیا جائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
New York Times: What 370,000 College Essays Tell Us About A.I.’s Effects on Creativity