ورلڈکپ کی ڈائری، دوسری قسط

رونالڈو ورلڈکپ میں اپنے گزشتہ پانچ میچوں میں گول نہیں کرسکے، برسوں کئی باصلاحیت اسٹرائیکرز محض اس لیے بینچ پر بیٹھے رہے کہ وہ کبھی ٹیم سے دستبردار نہیں ہوئے

ورلڈکپ کی ڈائری، دوسری قسط

حاضر ڈینیز اہکر اور سانڈر پلے، یوروپین ریویو آف بکس

پانچواں دن

یا غازی بن کر لوٹو یا شہید ہو کر

جنگ کے میدان سے پہلے رقص کا میدان آتا ہے۔

محلے کی گلیوں میں داول کے ڈھول اور زرنا کی بلند آوازیں گونجتی ہیں۔ گھروں میں تیار ہونے والے وافر کھانے صرف رشتے داروں نہیں بلکہ ان اجنبیوں تک بھی پہنچتے ہیں جو رات گئے تک بجتی موسیقی کے سحر میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ ترک فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کے اعزاز میں منعقد ہونے والی روایتی تقریبات کا یہ ایک عام منظر ہے، جسے عسکر اوغورلاما یعنی فوجی رخصتی کہا جاتا ہے۔

یہ تقریب زیادہ تر خوشی کا موقع ہوتی ہے، لیکن آخر میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب فضا بدل جاتی ہے۔ روانگی سے پہلے نوجوان سپاہی اپنے اہلخانہ اور دوستوں سے آخری الفاظ سنتا ہے، "یا غازی بن کر لوٹو یا شہید ہو کر۔"

ترکی میں موت آج بھی عوامی ثقافت میں عزت اور فخر کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ مشہور نعرہ بیسویں صدی کے اوائل میں عثمانی دور کے شاعر اور ترک قوم پرست محمد امین یورداکول نے وضع کیا تھا، لیکن صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے شہدا کی داستانیں عام کرنے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

ٹیلی ویژن ڈرامے، چاہے وہ عثمانی سلطنت کی عظمت کے بارے میں ہوں یا جدید دور کی "دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں" کے بارے میں، ایسے کرداروں سے بھرے پڑے ہیں جو قوم کی خاطر جان قربان کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ موسیقی کی ویڈیوز میں باپ اور بیٹے کو وطن کے دفاع میں خوشی خوشی مرتے دکھایا جاتا ہے۔ اور چونکہ فٹبال ترک عوام کا پسندیدہ مشغلہ ہے، اس لیے سیاست دان برسوں سے اس کھیل کو بھی قومی بیانیے کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کو سپاہیوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور سپاہیوں کو جنگ سے پہلے اچھے انداز میں رخصت کیا جاتا ہے۔

ورلڈکپ سے قبل ترکی کی قومی ٹیم دو بسوں میں ایئرپورٹ روانہ ہوئی جن پر بڑے بڑے ترک پرچم بنے ہوئے تھے۔ ان کے پیچھے سیکڑوں سرخ رنگ کی گاڑیوں کا غیر معمولی قافلہ تھا۔ یہ سرکاری سرپرستی میں بنائی گئی برقی گاڑیاں ہیں جن پر صدر اردوان کو خاص فخر ہے۔ ہر گاڑی ترک پرچموں سے سجی ہوئی تھی۔ موسیقی بج رہی تھی، ڈرون کیمرے اڑ رہے تھے اور ٹی وی کیمرے ہر منظر محفوظ کررہے تھے۔

ورلڈکپ میں ترکی کا پہلا مقابلہ آسٹریلیا سے تھا، اور تمام اندازے ترکی کے حق میں تھے۔ ترک ٹیم نے بھرپور حملے کیے۔ اس نے تیس شاٹس لگائے جبکہ آسٹریلیا نے صرف نو۔ ترکی نے 704 پاس دیے جن کی درستی 90 فیصد تھی، جبکہ آسٹریلیا نے 271 پاس دیے اور ان کی کامیابی کی شرح 74 فیصد رہی۔ ترک کھلاڑیوں نے زیادہ ٹیکل کیے، زیادہ کراسز بھیجے، زیادہ دیر گیند اپنے پاس رکھی اور کھیل پر مکمل کنٹرول قائم رکھا۔

لیکن حیرت انگیز طور پر وہ میچ دو صفر سے ہار گئے۔

ترکی میں ردعمل وہی آیا جس کی توقع کی جاسکتی تھی۔ مبصرین نے کوچ پر تنقید کی، عوامی مقامات پر میچ دیکھنے والے شائقین نے ٹیم کو برا بھلا کہا، اور سوشل میڈیا کے تبصرے تو الگ ہی داستان تھے۔

ترک عوام کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنی قومی ٹیم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اور جب وہ پوری نہ ہوں تو کھل کر ناراضی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن یہ ردعمل کچھ عجیب بھی لگتا ہے، کیونکہ اگر غور کیا جائے تو ٹیم نے وہی کچھ کیا، جو اسے سکھایا گیا تھا۔

وہ میدانِ جنگ میں گئی، پوری قوت سے لڑی، کھیل پر حاوی بھی رہی، اور پھر۔۔۔ شہید ہوگئی۔

 

چھٹا دن

مضحکہ خیز مضحکہ خیزی

بیلجیم مصر کے خلاف کھیل رہا ہے۔ اسکور ایک صفر ہے۔ رومیلو لوکاکو کو میدان میں اتارا جاتا ہے۔ گیند کنارے کی طرف جاتی ہے۔ لوکاکو درمیان سے دوڑ لگاتے ہیں۔ تھامس میونئیر کراس پھینکتے ہیں۔ سب کھلاڑی گیند تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چند لمحوں بعد گیند جال میں ہے۔ گول ہوچکا ہے لیکن کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ گول کس نے کیا۔ چند سیکنڈ تک پورا اسٹیڈیم الجھن میں رہتا ہے۔ گول تو حقیقی تھا لیکن اس کا خالق کون تھا؟ بیلجیم میں ایسے مناظر عام ہیں۔

بیلجین لوگ ہمیشہ مجھے الجھن میں ڈالتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ کیا وہ واقعی موجود بھی ہیں؟ اس ملک پر ایک عجیب قسم کی مضحکہ خیز بے معنویت چھائی ہوئی ہے۔

رینے میگریٹے کی مشہور پینٹنگ پر جملہ لکھا ہے، یہ پائپ نہیں ہے۔ دنیا کا مشہور ترین بیلجین مجسمہ ایک پیشاب کرتا ہوا بچہ ہے۔ اس بات پر قومی فخر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے دا سمرفس تخلیق کیے۔ دو برابر حیثیت رکھنے والی زبانیں، ان کے اوپر یورپی یونین کا ڈھانچا، اور برسلز جو گویا زبانوں کا ایک جدید بابلی مینار ہو۔ بیلجیم کی پوری فضا مضحکہ خیز تضادات سے بھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

پھر فٹبال بھی ہے۔

کیا آپ کو گھنگریالے بالوں والے گول کیپر ژان میری فاف یاد ہیں؟ 1982 کے ورلڈکپ میں اسپین میں ارجنٹینا کو شکست دینے کے بعد پول کے کنارے ایک جشن منعقد ہوا۔ ایک ریڈیو مبصر نے مذاق میں انھیں پانی میں دھکا دے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ فاف کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ انھیں بچالیا گیا۔ بعد میں انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ انھوں نے مذاق کیا تھا اور ڈوبنے کا ڈراما کر رہے تھے۔ اگلے میچ میں وہ ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

بعد میں ان کے خاندان پر مبنی ایک رئیلٹی شو دا فافس بنایا گیا جس میں ان کی اہلیہ کارمین اور بیٹیاں ڈیبی، کیلی اور لنزے شامل تھیں۔ یہ پروگرام ایک یا دو نہیں بلکہ پورے گیارہ سیزن تک چلتا رہا۔ گیارہ سیزن۔

میرے پسندیدہ شاعروں میں سرفہرست بیلجین شاعر پال وان اوسٹائیا ہیں۔ انھوں نے ایک فٹبال میچ پر ایک عجیب و غریب مزاحیہ تحریر لکھی تھی۔ اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ کسی عام صورتحال کو روزمرہ منطق کے ذریعے اتنا آگے بڑھایا جائے کہ وہ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہو جائے، اور یوں معلوم ہو کہ اصل مضحکہ خیزی شاید معاشرے کی اپنی منطق میں پوشیدہ ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک فارورڈ گول پر زوردار کک لگاتا ہے۔ گیند سیدھی گول کیپر کے سر پر لگتی ہے۔ اور پھر ایک ہولناک واقعہ پیش آتا ہے۔ گول کیپر کا سر گردن سے الگ ہوکر زمین پر جا گرتا ہے، جبکہ اس کا جسم سیدھا کھڑا رہتا ہے۔ سب لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔

گول نہیں ہوا کیونکہ گیند چند چکر کھاکر گول کیپر کے دھڑ پر آکر رک جاتی ہے۔ لیکن اسی دوران سینٹر فارورڈ موقع غنیمت جان کر دوڑتا ہے اور زور سے شاٹ مار کر گیند کو جسم سے اٹھاکر جال میں پہنچا دیتا ہے۔

اب ایک نئی الجھن پیدا ہوتی ہے۔ دس ہزار تماشائی ایک ساتھ چیختے ہیں، فاؤل۔ گول کیپر کا جسم پیچھے گر جاتا ہے، میچ روک دیا جاتا ہے، اور سینٹر فارورڈ کو شدید ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایک ونگر اس سے کہتا ہے، ہوٹنگ تو واقعی بہت زیادہ تھی، لیکن اس سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ تمہیں وہ فاؤل نہیں کرنا چاہیے تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ فاؤل آخر تھا کیا؟ کیا اسے زمین پر پڑے ہوئے سر کو نشانہ بنانا چاہیے تھا؟ یا پھر مسئلہ کچھ اور تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پوری کہانی کا مطلب کیا ہے؟ آخر اس میں مذاق کس چیز کا اڑایا جارہا ہے؟

میرے لیے یہ مضحکہ خیزی کی بھی انتہا ہے۔ اور شاید یہی بیلجیم ہے۔

 

ساتواں دن

یہ ٹرافی گھر واپس نہیں آرہی

ہر ورلڈکپ کے دوران تقریباً چھ کروڑ انگریزوں کو اجتماعی یادداشت کھو جانے کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔

وہ پچھلے تمام ورلڈکپ بھول جاتے ہیں، جیسے ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔ پھر سڑکوں پر نکل کر پورے یقین اور جوش کے ساتھ نعرہ لگاتے ہیں، اِٹس کمنگ ہوم۔ یعنی ورلڈکپ اپنے گھر واپس آرہا ہے، اور انگلینڈ ایک اور عالمی اعزاز جیتنے والا ہے۔

ایسا نہیں ہوگا، حالانکہ لاکھوں لوگ اس پر شرط لگارہے ہیں۔ ورلڈکپ کے پہلے ہفتے میں دنیا کی نو بڑی پیش گوئی مارکیٹوں میں لین دین کا حجم آٹھ ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔ صرف ایک پلیٹ فارم، پولی مارکیٹ، پر چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر اس بات پر لگائے گئے ہیں کہ انگلینڈ ٹرافی جیت لے گا۔ آخر ہم "عوامی دانش" پر شک کیوں کریں؟

ایک اور مقبول بیٹنگ پلیٹ فارم کے سربراہ نے اپنی ویب سائٹ کو "سچائی پیدا کرنے والی مشین" قرار دیا ہے، جو شرط لگانے والوں کی اجتماعی ذہانت سے درست نتائج تک پہنچتی ہے۔ لیکن ناقدین کے مطابق یہ حقیقت سے زیادہ حقیقت کا تاثر پیدا کرتی ہے۔

ماہرِ معاشیات کائلا اسکینلون لکھتی ہیں کہ جب بڑے سرمایہ کار مارکیٹ کا رخ بدلتے ہیں اور ان کی سرگرمی کو اجتماعی رائے سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے تو دراصل ہم چند طاقتور لوگوں کی شرطیں دیکھ رہے ہوتے ہیں، نہ کہ عوامی دانش۔ لیکن بعد میں انھیں "اجتماعی عقل" اور "سچائی" کا نام دے کر جائز حیثیت دے دی جاتی ہے۔

مثالیں ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ کبھی امریکی فوجی ان فوجی کارروائیوں پر شرط لگاتے پائے جاتے ہیں جن کی منصوبہ بندی خود کررہے ہوتے ہیں، اور کبھی لوگ موسم ناپنے والے آلات میں چھیڑ چھاڑ کرکے درجہ حرارت پر شرطیں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق درست پیش گوئیوں کے پیچھے صرف تین فیصد شرط باز ہوتے ہیں۔

لیکن فٹبال اس منطق کو اکثر جھٹلا دیتا ہے۔

زیادہ تر پیش گوئی مارکیٹوں میں اسپین کو ورلڈکپ کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا گیا تھا۔ ان کے پہلے میچ سے قبل کیپ وردی کو شکست دینے کے امکانات 90 فیصد تھے۔ ہر قابلِ پیمائش معیار یہی کہہ رہا تھا کہ اسپین آسانی سے جیت جائے گا۔ لیکن میچ برابر ہوگیا۔

اور پھر انگلینڈ ہے۔ اعداد و شمار، سوپر اسٹار کھلاڑی، اندرونی معلومات، کچھ بھی اس چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتا جو 1966 کے ورلڈ کپ کے بعد ہوئی۔ برازیل کے مشہور ادیب نیلسن رودریگیز  نے انگلینڈ کو بددعا دی تھی۔ وہ انگلش فٹبال کے پھیکے انداز سے اتنے نالاں تھے کہ انھوں نے کہا، انگلینڈ دوبارہ کبھی اپنی بے رنگ، بے تخیل اور غیر تخلیقی فٹبال ہم پر مسلط نہیں کرسکے گا۔

اس کے بعد سے انگلینڈ ایک بھی ورلڈکپ نہیں جیت سکا۔

اس بار امریکا پہنچنے کے بعد بھی انگلش ٹیم کو اپنے پہلے میچ سے قبل عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا تربیتی سامان چوری ہوگیا۔ ٹورنیڈو وارننگز کی وجہ سے کھلاڑیوں کو پناہ لینی پڑی۔ ان کے تربیتی مرکز کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ پھر فلوریڈا میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کی زد میں اورلینڈو بھی آیا، جہاں انگلینڈ کی ٹیم مقیم تھی۔ اس شدت کا زلزلہ اس علاقے میں 1880 کے بعد پہلی بار آیا تھا۔

آپ اسے بدقسمتی کہہ سکتے ہیں۔ نیلسن رودریگیز اسے کچھ اور کہتے تھے، "خدا اتفاقات کے اندر موجود ہوتا ہے۔"

 

آٹھواں دن

ابتدا میں جزیرہ تھا

"میں صرف مادیرا کی گلیوں میں فٹبال کھیلا کرتا تھا۔ جب بھی کوئی گاڑی گزرتی تو ہمیں کھیل روکنا پڑتا۔ میں ہر روز ایسا کرتے ہوئے مکمل خوش رہتا تھا۔"

یہ الفاظ کرسٹانو رونالڈو کے ہیں، جو ایک مضمون کے مصنف اور تیرہ سو سے زیادہ پیشہ ورانہ میچوں کے کھلاڑی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے رونالڈو فٹبال کی دنیا کا ہر وقت موجود رہنے والا چہرہ رہے ہیں۔ دنیا میں بہت کم لوگوں کو اتنے طویل عرصے تک عالمی شہرت کی روشنی نصیب ہوئی ہے۔ لیکن کل یہ روشنی کچھ تلخ ثابت ہوئی۔

اکتالیس برس کی عمر میں رونالڈو اس ورلڈکپ کے سب سے عمر رسیدہ فیلڈ پلیئر ہیں۔ پرتگال کے پہلے میچ میں، جو کانگو کے خلاف تھا، عمر کا اثر واضح نظر آیا۔

انہوں نے تین شاٹس لگائے، تینوں ہدف سے باہر گئے۔ ان کے پاس درست تھے، لیکن ان سے کوئی خطرناک موقع پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ کوئی عام اسٹرائیکر ہوتے تو شاید پچاس منٹ بعد ہی میدان سے باہر بھیج دیے جاتے۔ لیکن وہ پورا میچ کھیلتے رہے۔ آخر وہ رونالڈو ہیں۔

دنیا کے بعض حصوں میں انھیں دیوتا جیسی حیثیت حاصل ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں وہ ناگزیر محسوس ہوتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اب کیا ہیں؟

ورلڈکپ میں اپنے گزشتہ پانچ میچوں میں وہ نہ کوئی گول کرسکے ہیں اور نہ کوئی ایسا موقع پیدا کرسکے ہیں جسے فیصلہ کن کہا جاسکے۔ 2010 اور 2020 کی دہائیوں میں پرتگال کے کئی باصلاحیت اسٹرائیکرز محض اس لیے بینچ پر بیٹھے رہے کہ رونالڈو کبھی ابتدائی ٹیم سے دستبردار نہیں ہوئے۔

کیا وہ خود یہ بات نہیں دیکھتے؟ کیا یہ اتنا واضح نہیں؟ وہ اکتالیس برس کے ہیں، دنیا کی تقریباً ہر بڑی ٹرافی جیت چکے ہیں، پھر وہ کھیل چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

کسی حد تک رونالڈو گزشتہ پندرہ برس کی فٹبال دنیا کی علامت بن گئے ہیں۔ ہر قیمت پر ترقی، ہر قیمت پر مزید کامیابی۔ کبھی میچ کافی نہیں ہوتے، کبھی گول کافی نہیں ہوتے، کبھی دولت کافی نہیں ہوتی۔

وہ 2017 میں، جب ریال میڈرڈ کے لیے 400 میچ کھیل چکے تھے، انھوں نے ایک مضمون میں لکھا کہ یہ جذبہ ان کے اندر شروع سے موجود تھا۔ "جیتنا آج بھی میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں اسی فطرت کے ساتھ پیدا ہوا ہوں۔"

لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ باہر سے دیکھنے والے شاید اسے پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ اسی لیے انھوں نے مضمون کا اختتام ایک غیر یقینی جملے پر کیا، "شاید اب آپ سمجھ گئے ہوں۔"

اگر ہم نہیں سمجھ سکتے تو شاید مادیرا کا ایک اور باشندہ سمجھا سکے۔

ہوزے تولینتینو میندونسا جزیرۂ مادیرا کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انسان کبھی اپنے جزیرے سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکتا۔ ایک سوانحی مضمون میں ان کے بارے میں لکھا گیا کہ ان کی شاعری مسلسل "دوسرے" کی طرف بڑھتی ہے، لیکن وہ دوسرا ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک اجنبی ہی رہتا ہے، چاہے دونوں ایک زبان بولتے ہوں یا ایک ہی جزیرے کے رہنے والے ہوں۔

وہ اپنی ایک نظم میں مادیرا کو بلوغت کی عمر میں داخل ہونے والے ایک بچے سے تشبیہ دیتے ہیں۔

ابتدا میں جزیرہ تھا

اگرچہ کہا جاتا ہے

کہ خدا کی روح

ان دنوں پانیوں پر منڈلاتی تھی،

مگر میں زمین پر لیٹ کر

ستاروں کو دیکھا کرتا تھا،

اور کبھی یہ نہیں سوچتا تھا

کہ آگ کے یہ روشن جسم

خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔

۔۔۔

ان دنوں

خدا کو اب بھی

ویران مقامات پر کیا جاسکتا تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے

جب میں نے ابھی الجبرا سیکھنا شروع نہیں کیا تھا


ورلڈکپ ڈائری انگریزی میں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

European Review of Books: The Footnoes