ورلڈکپ میں کتنے کھلاڑی "اپنے" ملک کے لیے کھیل رہے ہیں؟
برازیل کے خلاف ورلڈکپ میچ میں کچھ دیر کے لیے مراکش کی جو ٹیم میدان میں موجود تھی، اس میں ایک بھی کھلاڑی مراکش میں پیدا نہیں ہوا تھا
ایک زمانہ تھا جب قومی فٹبال ٹیمیں مکمل طور پر اپنے ملک میں پیدا ہونے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ آج صورتحال کافی مختلف ہے۔ 2026 کے فیفا ورلڈکپ میں تقریباً ایک چوتھائی کھلاڑی ایسے ہیں جو اس ملک میں پیدا نہیں ہوئے جس کی نمائندگی کررہے ہیں۔ بعض ٹیموں میں تو بیرون ملک پیدا ہونے والے کھلاڑی اکثریت میں ہیں۔ یہ تبدیلی صرف فٹبال کی نہیں بلکہ عالمی ہجرت، دوہری شہریت، ڈائسپورا کمیونٹیز اور بدلتی ہوئی قومی شناخت کی کہانی بھی ہے۔
اس رجحان کی سب سے نمایاں مثال مراکش ہے۔ برازیل کے خلاف ورلڈکپ کے میچ میں کچھ دیر کے لیے مراکش کی جو ٹیم میدان میں موجود تھی، اس میں ایک بھی کھلاڑی مراکش میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ منظر چند دہائیاں پہلے ناقابل تصور تھا۔ بی بی سی کے مطابق 48 میں سے صرف آٹھ ٹیمیں ایسی ہیں جن کے اسکواڈ میں کوئی دوسرے ملک میں پیدا ہونے والا کھلاڑی موجود نہیں۔
یہ رجحان اچانک پیدا نہیں ہوا۔ آکسفرڈ یونیورسٹی کے سینٹر آن مائیگریشن، پالیسی اینڈ سوسائٹی کے مطابق 1938 کے ورلڈکپ میں بھی 12 فیصد کھلاڑی ایسے تھے جو اپنے پیدائشی ملک کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت فیفا کے قواعد بہت نرم تھے اور بعض کھلاڑی مختلف ادوار میں دو مختلف ممالک کے لیے بھی کھیل لیتے تھے۔ سب سے مشہور مثال لوئس مونٹی کی ہے جنھوں نے 1930 کا ورلڈکپ ارجنٹینا کے لیے کھیلا اور 1934 میں اٹلی کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی چیمپین بن گئے۔
فیفا نے 1962 میں پہلی مرتبہ باقاعدہ اہلیت کے قواعد متعارف کرائے۔ پھر 2003 اور 2004 میں قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئیں جن کے تحت نوجوانی میں ایک ملک کی نمائندگی کرنے والے بعض کھلاڑیوں کو سینئر سطح پر دوسرا ملک منتخب کرنے کی اجازت دی گئی، بشرطیکہ ان کے پاس قانونی اہلیت موجود ہو۔ آج کسی کھلاڑی کو عموماً اس ملک کی شہریت کے ساتھ والدین یا طویل مدت کی رہائش ثابت کرنا ہوتی ہے۔
ان تبدیلیوں کا سب سے زیادہ فائدہ افریقی ممالک کو ہوا۔ رائٹرز کے مطابق الجزائر، مراکش، سینیگال اور کیپ وردے جیسے ممالک نے یورپ میں آباد اپنی ڈائسپورا کمیونٹیز میں منظم انداز سے کھلاڑی تلاش کرنا شروع کیے۔ نتیجتاً انہیں ایسے فٹبالرز ملنے لگے جو فرانس، بیلجیم، نیدرلینڈز یا اسپین کے جدید تربیتی نظاموں میں پروان چڑھے تھے۔
مراکش اس حکمت عملی کی کامیاب ترین مثال بن گیا۔ 2022 کے ورلڈکپ میں وہ سیمی فائنل تک پہنچنے والا پہلا افریقی ملک بنا۔ اس کامیابی میں یورپ میں پیدا ہوئے مراکشی نژاد کھلاڑیوں کا اہم کردار تھا۔ مراکش نے فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں اسکاؤٹس مقرر کیے، جنھوں نے وہاں آباد مراکشی خاندانوں کے نوجوان فٹبالرز کو قومی ٹیم سے جوڑا۔ یہ صرف فٹبال کی حکمت عملی نہیں بلکہ ڈائسپورا کو قومی منصوبے کا حصہ بنانے کی مثال تھی۔
اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ اس سال کا ورلڈکپ اس رجحان کا نقطۂ عروج ہے۔ 1248 میں سے 289 کھلاڑی ایسے ہیں جو اپنے پیدائشی ملک کے بجائے کسی اور ملک کی نمائندگی کررہے ہیں۔ یہ تعداد کل کھلاڑیوں کا ایک چوتھائی ہے۔ بعض ٹیموں میں یہ شرح حیران کن حد تک بلند ہے۔ کوراساؤ کے 96 فیصد، کانگو کے 85 فیصد اور مراکش کے 73 فیصد کھلاڑی بیرون ملک پیدا ہوئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے ٹیمیں واقعی مضبوط ہوتی ہیں؟ ایک تحقیق میں 1970 سے 2018 تک کے تمام ورلڈکپ ٹورنامنٹس کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن ٹیموں میں غیر ملکی پیدائش کے حامل کھلاڑی زیادہ تھے، وہ اوسطاً زیادہ آگے تک پہنچیں۔ ایک دوسرے مطالعے میں یہ نتیجہ نکلا کہ زیادہ متنوع نسلی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والی ٹیموں کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی۔
وجہ یہ ہے کہ ہجرت کسی ملک کے لیے دستیاب ٹیلنٹ کا دائرہ وسیع کردیتی ہے۔ مثال کے طور پر گھانا اپنے یورپی ڈائسپورا سے ایسے کھلاڑی حاصل کرسکتا ہے جو دنیا کے بہترین فٹبال اکیڈمی نظاموں میں تربیت پاتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مختلف معاشروں سے آنے والے کھلاڑی مختلف مہارتیں، جسمانی خصوصیات اور کھیلنے کے انداز ساتھ لاتے ہیں، جس سے ٹیم زیادہ متوازن ہوجاتی ہے۔
اس رجحان کی انسانی کہانیاں بھی دلچسپ ہیں۔ فرانس میں پیدا ہونے والے ابراہیم مبائے نے سینیگال کی نمائندگی کا انتخاب کیا اور 2026 کے ورلڈکپ میں اپنے پیدائشی ملک فرانس کے خلاف گول بھی کیا۔ سوئٹزرلینڈ کے بریل ایمبولو نے 2022 میں کیمرون کے خلاف گول کیا تو خوشی منانے کے بجائے معذرت خواہانہ انداز میں ہاتھ اٹھا دیے کیونکہ کیمرون ان کا پیدائشی وطن تھا۔
دلچسپ بات ہے کہ اس ورلڈکپ میں بھائیوں کے کئی جوڑے مختلف ممالک کی نمائندگی کررہے ہیں۔ نکو ولیمز اسپین کے لیے کھیلتے ہیں جبکہ ان کے بھائی اِناکی ولیمز گھانا کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جدید دنیا میں شناخت صرف پاسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ جذبات، خاندان اور ذاتی وابستگی کا بھی معاملہ ہے۔
امریکا کی قومی ٹیم اس بحث کا ایک اور پہلو پیش کرتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اسے "امریکا کی تارکینِ وطن فٹبال ٹیم" قرار دیا۔ امریکی اسکواڈ کے ایک چوتھائی کھلاڑی بیرون ملک پیدا ہوئے، جبکہ کئی دوسرے کھلاڑی پہلی یا دوسری نسل کے تارکین وطن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کرسچین پُلیشچ کے دادا کروشیا سے آئے تھے، ریکارڈو پیپی کے والدین میکسیکو سے ہجرت کرکے آئے، جبکہ حاجی رائٹ کی والدہ لائبیریا اور والد گھانا سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض ٹیموں کے لیے یہ رجحان خوش آئند سہی لیکن متنازع بھی ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر قومی ٹیموں میں بڑی تعداد ایسے کھلاڑیوں کی ہو جو ملک میں پیدا ہی نہیں ہوئے تو مقامی شائقین اپنی ٹیم سے جذباتی تعلق کھو سکتے ہیں۔ سابق فیفا صدر سیپ بلاٹر نے ایک زمانے میں خبردار کیا تھا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ورلڈکپ میں ایسی ٹیمیں نظر آئیں گی جو بڑی حد تک "درآمد شدہ" کھلاڑیوں پر مشتمل ہوں گی۔
دوسری طرف حامیوں کا استدلال ہے کہ یہ عالمی حقیقت کا عکس ہے۔ آج تقریباً چار فیصد عالمی آبادی ایسے ملک میں رہتی ہے جہاں وہ پیدا نہیں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، پیشہ ور افراد اور کھلاڑیوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہے، لہٰذا قومی ٹیموں میں ہجرت کے اثرات کا نظر آنا فطری بات ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کا ورلڈکپ صرف فٹبال کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک سماجی تجربہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ قومی ٹیمیں صرف جغرافیائی سرحدوں کی نمائندہ نہیں رہیں بلکہ تاریخ، ہجرت، نوآبادیاتی روابط، دوہری شناخت اور عالمی نقل و حرکت کی عکاس بھی بن چکی ہیں۔ اگر بیسویں صدی کا ورلڈکپ قوم پرستی کی علامت تھا تو اکیسویں صدی کا ورلڈ کپ بتا رہا ہے کہ جدید قومیں سرحدوں سے کم اور لوگوں کے باہمی تعلقات سے زیادہ تشکیل پاتی ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
COMPAS: Has migration become an ingredient of World Cup success?
BBC: Why more World Cup players than ever are not representing their birth nations
Reuters: How soccer’s eligibility rules work and their impact on the World Cup