ورلڈکپ میں پانی کا وقفہ، کھلاڑیوں کے لیے یا اشتہارات کے لیے؟

کھیل کو 1897 میں 45 منٹ کے دو ہاف میں تقسیم کیا گیا تھا، اس کے بعد یہ پہلی موقع ہے کہ عملی طور پر فٹبال میچ کو چار حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے

ورلڈکپ میں پانی کا وقفہ، کھلاڑیوں کے لیے یا اشتہارات کے لیے؟

فیفا ورلڈکپ کے ہر میچ میں دونوں ہاف کے 22ویں منٹ پر تین منٹ کا پانی کا وقفہ متعارف کرایا گیا ہے۔ فیفا کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا، کیونکہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کئی مقامات پر شدید گرمی متوقع تھی۔ لیکن شائقین، کوچز اور کئی کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ اصل مقصد کھلاڑیوں کو پانی پلانا نہیں بلکہ ٹی وی اشتہارات کے لیے وقفہ پیدا کرنا ہے۔

فیفا نے دسمبر 2025 میں اعلان کیا تھا کہ ٹورنامنٹ کے تمام 104 میچوں میں، موسم یا مقام سے قطع نظر، دونوں ہاف میں تین تین منٹ کی ہائیڈریشن بریک لازمی ہوگی تاکہ تمام ٹیموں کو یکساں حالات میسر رہیں۔ اس سے پہلے صرف شدید گرمی یا مخصوص درجہ حرارت کی صورت میں ریفری اپنی صوابدید پر ڈرنکس بریک دیتے تھے، لیکن اس بار یہ ہر میچ کا لازمی حصہ بنادیا گیا۔

فیفا نے اس فیصلے کے حق میں گزشتہ برس امریکا میں ہوئے کلب ورلڈکپ کی مثال پیش کی ہے، جہاں کئی کھلاڑیوں اور کوچز نے شدید گرمی پر سخت اعتراضات کیے تھے۔ ارجنٹینا اور چیلسی کے مڈفیلڈر اینزو فرنانڈیز نے کہا تھا کہ وہ میچ کے دوران "خطرناک حد تک چکرا گئے تھے"، جبکہ اسپین کے مارکوس یورینتے نے گرمی کی شدت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔ چیلسی کے اس وقت کے کوچ اینزو مارسکا نے بھی گرمی کے باعث اپنی ٹریننگ مختصر کردی تھی۔ فیفا کا کہنا ہے کہ ان تجربات کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے ہائیڈریشن بریکس کو لازمی کیا گیا۔

لیکن اس وضاحت کے باوجود تنقید ختم نہیں ہوئی۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ہائیڈریشن بریکس ہر میچ میں دی جارہی ہیں، خواہ مقابلہ بارش میں ہو، ٹھنڈے موسم میں ہو یا بند چھت والے ایئرکنڈیشنڈ اسٹیڈیم میں۔ اسی وجہ سے ناقدین اسے طبی ضرورت کے بجائے تجارتی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کے کالم نگار بارنی رونے نے اس تبدیلی کو فٹبال کی تاریخ کی انتہائی بنیادی تبدیلیوں میں شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق 1897 میں کھیل کو 45 منٹ کے دو ہاف میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ پہلی موقع ہے کہ عملی طور پر فٹبال میچ کو چار حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائیڈریشن بریک ایک خوش نما اصطلاح ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایڈورٹائزمنٹ بریک ہے، جس کے دوران ٹی وی نشریات میں اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر فیفا شروع ہی سے اعلان کرتا کہ فٹبال کو چار کوارٹرز میں تقسیم کیا جارہا ہے تو دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آتا۔

امریکی اور کینیڈین نشریاتی ادارے ان وقفوں کے دوران باقاعدہ اشتہارات نشر کرتے ہیں، جبکہ اسٹیڈیموں کی بڑی اسکرینوں پر اسپانسرز کی تشہیر کی جاتی ہے۔ اسی لیے بہت سے شائقین کا خیال ہے کہ اصل مقصد اضافی اشتہاری آمدنی حاصل کرنا ہے۔

ورلڈکپ کے دوران بیشتر اسٹیڈیموں میں ہائیڈریشن بریک شروع ہوتے ہی تماشائیوں کی جانب سے زور دار ہوٹنگ سنائی دیتی ہے۔ گارڈین کے مطابق نیدرلینڈز، اسپین، میکسیکو، جاپان، کولمبیا، سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے شائقین نے بھی ان وقفوں پر احتجاج کیا ہے۔

کھلاڑیوں اور کوچز کی رائے بھی یکساں نہیں۔ امریکا کے دفاعی کھلاڑی اینٹونی رابنسن نے انکشاف کیا کہ ایک میچ میں ریفری نے انھیں میدان میں واپس جانے سے روک دیا کیونکہ "اشتہارات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔" ان کے مطابق بطور ناظر بھی بار بار اشتہارات کھیل کے تسلسل کو متاثر کرتے ہیں۔

نیدرلینڈز کے کپتان ورجل فان ڈائک نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی شدید گرمی ہو تو وقفہ مناسب ہے، لیکن ہر میچ میں ایسا کرنا درست نہیں۔ ان کے خیال میں ہر مقابلے کے موسمی حالات کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔

یوروگوئے کے معروف کوچ مارسیلو بیئیلسا اس معاملے میں سب سے سخت ناقد بن کر سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ہاف کی جگہ چار حصوں میں میچ کو تقسیم کرنا فٹبال کی ثقافتی شناخت کو بدل دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں اس تبدیلی نے کھیل میں کچھ اضافہ نہیں کیا بلکہ اس سے بہت کچھ چھین لیا ہے۔

چند کوچز اس تبدیلی کو اپنے حق میں استعمال بھی کررہے ہیں۔ جرمنی کے جولین ناگلزمین نے اعتراف کیا کہ ایک مشکل حکمت عملی کا حل انھیں ہائیڈریشن بریک کے دوران ملا، جبکہ برازیل کے کوچ کارلو اینچیلوتی نے بھی کہا کہ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو اسی وقفے میں نئی ہدایات دیں جس سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوئی۔

کروشیا کے کوچ زلاٹکو دالیچ کا مؤقف نسبتاً متوازن تھا۔ ان کے مطابق یہ وقفہ کبھی نقصان پہنچاتا ہے اور کبھی فائدہ دیتا ہے۔ اگر ٹیم دباؤ میں ہو تو کھلاڑی سانس بحال کرلیتے ہیں، لیکن اگر ٹیم برتری حاصل کر رہی ہو تو یہی وقفہ اس کی رفتار توڑ دیتا ہے۔

اسی پہلو کی نشاندہی اردن کے مڈفیلڈر عامر جموس اور ہیٹی کے کوچ سباستیان میگنے نے بھی کی۔ ان کے مطابق وقفے کے بعد کئی بار کھلاڑی دوبارہ میچ کے بہاؤ میں واپس آنے میں وقت لیتے ہیں، جس سے مخالف ٹیم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

ESPN: Why are there hydration breaks at the 2026 World Cup, and why has FIFA been criticised?

Guardian: Fifa unites the world – in anger at hydration breaks (AKA ad breaks)

New York Times: What do World Cup players and coaches think of hydration breaks?