ورلڈکپ میں ایشیائی اور افریقی ٹیمیں سخت جان ثابت ہورہی ہیں
جنوبی کوریا نے چیکیہ کو شکست دی، جاپان نے ہالینڈ سے میچ برابر کھیلا، مراکش، کیپ وردی اور سعودی عرب نے سابق عالمی چیمپینز برازیل، اسپین اور یوراگوئے کو جیتنے نہیں دیا
اس میں کوئی شک نہیں کہ فٹبال پر یورپ اور لاطینی امریکا کی ٹیموں کا راج ہے اور ان کے ہاں دنیا کی بہترین لیگز کھیلی جاتی ہیں۔ لیکن ورلڈکپ 2026 میں ایشیائی اور افریقی ٹیمیں سخت جان حریف ثابت ہورہی ہیں۔ گروپ میچوں کے پہلے راونڈ میں جنوبی کوریا نے چیکیہ کو شکست دی، جاپان نے ہالینڈ سے میچ برابر کھیلا جبکہ مراکش، کیپ وردی اور سعودی عرب نے سابق عالمی چیمپینز برازیل، اسپین اور یوراگوئے کو جیتنے نہیں دیا۔ یہ نتائج ناک آوٹ راونڈ کے لیے کوالیفائی کرنے کے موقع پر اثرانداز ہوں گے۔
ورلڈکپ میں پہلے ہی دن جنوبی کوریا نے چیکیہ کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر نہ صرف تین قیمتی پوائنٹس حاصل کیے بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ گروپ اے میں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کی مضبوط امیدوار ہے۔ جنوبی کوریا کی منظم حکمت عملی، تیز رفتار جوابی حملوں اور نظم و ضبط نے مضبوط یورپی حریف کو بے بس کردیا۔
گروپ سی میں مراکش نے پانچ بار کی عالمی چیمپئن ٹیم برازیل کو ایک ایک گول سے برابر کھیلنے پر مجبور کیا۔ گزشتہ ورلڈکپ کی سیمی فائنلسٹ مراکش کی ٹیم نے میچ کے ابتدائی حصے میں بہتر کھیل پیش کیا اور برازیل کے کمزور دفاع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اگرچہ برازیل کو ونیسیئس جونیئر کی انفرادی صلاحیت نے شکست سے بچالیا، لیکن مجموعی طور پر مراکش زیادہ منظم اور پراعتماد نظر آیا۔ کئی مبصرین نے اس نتیجے کو 2022 کے ورلڈکپ میں مراکش کی تاریخی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
گروپ ایچ میں ایک اور حیران کن نتیجہ سامنے آیا جب افریقی ملک کیپ وردی نے اپنے پہلے ورلڈکپ میچ میں یورپی چیمپین اسپین کے خلاف میچ برابر کھیلا۔ اسپین نے 75 فیصد سے زیادہ وقت گیند اپنے قبضے میں رکھی اور درجنوں حملے کیے، لیکن کیپ وردی کے دفاع کے سامنے کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے 40 سالہ گول کیپر ووزینیا نے کئی یقینی گول بچائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
گزشتہ ورلڈکپ میں ارجنٹینا کو شکست دے کر اپ سیٹ کرنے والی سعودی ٹیم نے دو بار کی عالمی چیمپین یوراگوئے کے خلاف میچ ایک ایک گول سے ڈرا کیا۔ سعودی دفاع نے طویل عرصے تک یوراگوئے کے حملہ آوروں کو روکے رکھا جبکہ عبدالإلہ العمری نے سعودی عرب کو برتری بھی دلائی۔ اگرچہ یوراگوئے بعد میں برابر کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن سعودی ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی بڑے حریف کو پریشان کرسکتی ہے۔
گروپ جی میں مصر اور بیلجیم کا میچ ایک ایک گول سے برابری پر ختم ہوا۔ مصر کی جانب سے امام عاشور نے شاندار گول اسکور کیا جبکہ محمد صلاح اور عمر مرموش مسلسل خطرناک حملے کرتے رہے۔ بیلجیم کو میچ بچانے کے لیے رومیلو لوکاکو کو متبادل کے طور پر میدان میں اتارنا پڑا۔
ایران نے بھی نیوزی لینڈ کے خلاف دو دو گول سے میچ برابر کھیل کر گروپ جی کو دلچسپ بنادیا۔ اگرچہ ایران کا مقابلہ کسی یورپی یا جنوبی امریکی طاقت سے نہیں تھا، لیکن اس نتیجے نے گروپ میں پوائنٹس کی تقسیم کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ اب بیلجیئم، مصر، نیوزی لینڈ اور ایران، چاروں ٹیموں کے لیے اگلے میچ انتہائی اہم ہوگئے ہیں۔
گروپ مرحلے کے اختتام پر صرف گروپ کی پہلی دو ٹیمیں نہیں بلکہ تیسرے نمبر کی بارہ میں سے آٹھ ٹیمیں بھی ناک آوٹ راونڈ مرحلے میں جائیں گی۔ ایسے میں اسپین، برازیل، بیلجیئم اور یوراگوئے جیسی ٹیموں کا کمزور سمجھی جانے والی حریفوں کے خلاف پوائنٹس کھونا بعد میں ان کی درجہ بندی اور ناک آؤٹ مرحلے کے راستے پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر ایشیائی اور افریقی ٹیموں نے عمدہ پرفارمنس جاری رکھی تو ممکن ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے میں ان کی نمائندگی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔