ورلڈکپ سے جرمنی اور نیدرلینڈز آوٹ، برازیل نے بمشکل جان بچائی

جرمن کوچ نے شکست کے بعد کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ ورلڈکپ سے مسلسل تیسری بار جلد اخراج اس بات کا ثبوت ہے کہ جرمنی اب پہلی صف کی ٹیموں میں شامل نہیں رہا

ورلڈکپ سے جرمنی اور نیدرلینڈز آوٹ، برازیل نے بمشکل جان بچائی

فیفا ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز ایسے نتائج سے ہوا ہے جنھوں نے ٹورنامنٹ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ چار بار کی عالمی چیمپین جرمنی کو پیراگوئے اور تین بار کی فائنلسٹ نیدرلینڈز کو مراکش کے خلاف پنالٹی شوٹ آوٹ پر شکست ہوگئی جبکہ پانچ بار کی چیمپین برازیل نے جاپان کے خلاف آخری لمحات میں گول کرکے بمشکل جان بچائی۔ ان تینوں مقابلوں نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ ورلڈکپ روایتی طاقتوں کے لیے پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔

جرمنی کی شکست سب سے زیادہ حیران کن رہی۔ پیراگوئے کے خلاف مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا لیکن پنالٹی شوٹ آؤٹ میں جرمن کھلاڑی وہ اعتماد نہ دکھا سکے جو کئی دہائیوں تک ان کی شناخت سمجھا جاتا تھا۔ پیراگوئے نے فیصلہ کن مرحلے میں مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرمنی کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔

نیویارک ٹائمز نے اس شکست کو ایک میچ کا نتیجہ نہیں بلکہ جرمن فٹبال کے زوال کی علامت قرار دیا ہے۔ 2014 میں برازیل کو 7-1 سے شکست دے کر ورلڈکپ جیتنے والی جرمن ٹیم کو اس وقت دنیا کی بہترین ٹیم سمجھا جاتا تھا۔ 2002 سے 2014 تک جرمنی مسلسل چارورلڈ کپ میں فائنل یا سیمی فائنل تک پہنچا۔ لیکن 2018 اور 2022 میں وہ گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اس بار ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ گیا لیکن عالمی رینکنگ میں کمتر ٹیم پیراگوئے کے خلاف فتح حاصل نہ کرسکا۔

جرمن کوچ یولیان ناگلزمین نے شکست کے بعد کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ مسلسل تیسری بار جلد اخراج اس بات کا ثبوت ہے کہ جرمنی اب پہلی صف کی ٹیموں میں شامل نہیں رہا۔ ان کے مطابق ٹیم گول کرنے میں ناکام رہی اور فیصلہ کن لمحات میں برتری حاصل نہ کرسکی۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ جرمن فٹبال کو اب ویسی ہی اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے، جیسے 2000 کی یورپی چیمپین شپ میں ناکامی کے بعد نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری اور کوچنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

اگر جرمنی کی شکست حیران کن تھی تو نیدرلینڈز کی رخصتی نے افریقی فٹبال کی نئی طاقت کا اعلان کیا ہے۔ مراکش سے سنسنی خیز مقابلہ ایک ایک سے برابری پر ختم ہوا۔ پھر افریقی ٹیم نے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 3-2 سے کامیابی حاصل کرکے ایک اور یورپی طاقت کو گھر بھیج دیا۔ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں نیدرلینڈز کے تین کھلاڑی ناکام رہے، جبکہ مراکش کے اسماعیل صیباری نے فیصلہ کن پنالٹی اسکور کرکے اپنی ٹیم کو اگلے مرحلے میں پہنچا دیا۔

بی بی سی نے اس کامیابی کو اپ سیٹ نہیں بلکہ افریقی فٹبال کے مسلسل ارتقا کا ثبوت قرار دیا ہے۔ 2022 ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے والی مراکشی ٹیم ایک بار پھر یورپی حریفوں کو شکست دے رہی ہے۔ اشرف حکیمی، ابراہیم دیاز، صیباری اور دوسرے باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم عالمی فٹبال کی نئی سوپر ٹیم ہونے کی دعوے دار دکھائی دے رہی ہے۔

مراکش کے نئے کوچ محمد اوہبی نے مختصر عرصے میں ٹیم کو منظم شکل دی ہے، جبکہ نوجوان مڈفیلڈر ایوب بوادی جیسے کھلاڑی مستقبل کی بڑی امید سمجھے جارہے ہیں۔ ٹیم نے نیدرلینڈز کے خلاف زیادہ تر وقت کھیل پر کنٹرول رکھا، متعدد مواقع پیدا کیے اور آخرکار اپنی محنت کا صلہ حاصل کیا۔

پیر کو پہلا بڑا مقابلہ برازیل اور جاپان کے درمیان ہوا، جہاں برازیل بال بال بچا۔ جاپان نے پہلے ہاف میں نہ صرف شاندار دفاع کیا بلکہ 29ویں منٹ میں کائیشو سانو کے گول کی بدولت برتری بھی حاصل کرلی تھی۔ برازیل کی عمر رسیدہ دفاعی لائن اور سست رفتار کھیل کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید کامیابی اس کا مقدر نہ بنے۔

وقفے کے بعد کوچ کارلو اینچلوتی نے حکمت عملی تبدیل کردی۔ نوجوان اینڈرک کی آمد اور فارمیشن میں تبدیلی نے برازیل کے حملوں میں جان ڈال دی۔ 56ویں منٹ میں کاسیمیرو نے ہیڈر کے ذریعے اسکور برابر کردیا، جبکہ انجری ٹائم کے پانچویں منٹ میں گیبریل مارٹینیلی نے فیصلہ کن گول کرکے جاپان کے خواب توڑ دیے۔ گارڈین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ برازیل نے اس ٹورنامنٹ میں معمولی کارکردگی کے باوجود کامیابی حاصل کی ہو۔ اینچلوتی کی ٹیم اکثر طویل عرصے تک متاثر کن کھیل پیش نہیں کرتی، لیکن اس کے تجربہ کار کھلاڑی آخر میں کوئی ایسا لمحہ پیدا کردیتے ہیں جو میچ کا رخ بدل دیتا ہے۔ یہی انداز اینچلوتی کی ریال میڈرڈ کی کامیاب ٹیموں میں بھی دیکھا گیا تھا۔

جاپان اگرچہ شکست سے دوچار ہوا، لیکن اس کی کارکردگی نے سب کو متاثر کیا۔ اس نے ونیشیئس جونیئر جیسے خطرناک کھلاڑی کو کافی حد تک بے اثر رکھا، دفاعی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور طویل عرصے تک برازیل کو واضح مواقع پیدا کرنے سے روکے رکھا۔

ناک آؤٹ مرحلے کے ابتدائی مقابلوں نے ورلڈکپ کا رخ واضح کردیا ہے اور بڑی ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ راونڈ آف 32 میں منگل کو ناروے کا مقابلہ آئیوری کوسٹ، فرانس کا ٹکراو سویڈن اور میکسیکو کا سامنا ایکویڈور سے ہوگا۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

New York Times: Germany were once World Cup kings. Now they’re simply not that good

BBC: Morocco underline prospects on latest big night for Africa

Guardian: Brazil into last 16 as Martinelli strikes in stoppage time to break Japan hearts