وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے سیکڑوں عمارتیں گرگئیں، سیکڑوں افراد ہلاک

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دونوں زلزلے کم گہرائی میں آئے، جس کی وجہ سے سطح پر جھٹکوں کی شدت بہت زیادہ محسوس کی گئی

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے سیکڑوں عمارتیں گرگئیں، سیکڑوں افراد ہلاک

وینزویلا پہلے ہی کئی سال سے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور کمزور انفرااسٹرکچر جیسے مسائل سے نبرد آزما تھا، لیکن 24 جون کی شام آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کو ایک نئے انسانی المیے سے دوچار کردیا۔ صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور پھر 7.5 شدت کے زلزلوں نے دارالحکومت کاراکاس سمیت شمالی ساحلی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، ہزاروں زخمی ہوئے، سیکڑوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوگئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دونوں زلزلے کم گہرائی میں آئے، جس کی وجہ سے سطح پر جھٹکوں کی شدت بہت زیادہ محسوس کی گئی۔ دوسرا زلزلہ گزشتہ ایک صدی میں وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ڈبلٹ تھا، یعنی تقریباً ایک ہی مقام پر مختصر وقفے سے ایک جیسی شدت کے دو بڑے زلزلے آئے، جو دنیا میں نایاب واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے زلزلے سے کمزور ہونے والی عمارتیں دوسرے جھٹکے میں منہدم ہوگئیں۔

سب سے زیادہ تباہی لا گوائیرا ریاست میں ہوئی، جہاں متعدد رہائشی عمارتیں، ہوٹل اور تجارتی مراکز ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ کاراکاس کے الٹامیرا اور لاس پالوس گرینڈیس جیسے علاقے بھی شدید متاثر ہوئے۔ سرکاری حکام کے مطابق کم از کم 250 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئیں جبکہ مرکزی ہوائی اڈے کا رن وے بھی متاثر ہوا، جس کے بعد فضائی آپریشن معطل کرنا پڑا۔ ریلوے، میٹرو اور اسکول بھی بند کردیے گئے۔

ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی ماڈلز میں خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں بلکہ بدترین صورت میں دسیوں ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

زلزلے کے بعد سب سے دردناک منظر امدادی کارروائیوں کا تھا۔ متعدد مقامات پر سرکاری ریسکیو ٹیمیں کئی گھنٹے بعد پہنچ سکیں، اس لیے ابتدائی امداد کا زیادہ تر بوجھ عام شہریوں، پڑوسیوں اور رضاکاروں نے اٹھایا۔ لا گوائیرا میں ایک شخص گھنٹوں تک اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتا رہا تاکہ اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو نکال سکے۔ وہ اپنی بیٹیوں کو تو زندہ نکالنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن اس کی اہلیہ ملبے تلے دم توڑ چکی تھی۔ ایسے کئی مناظر وینزویلا بھر میں دیکھنے کو ملے، جہاں لوگ جدید مشینری کے بجائے بیلچوں، ہتھوڑوں اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتے رہے۔
اسپتالوں کی حالت بھی فوری طور پر خراب ہوگئی۔ لا گوائیرا کے مرکزی ہسپتال کے باہر درجنوں زخمی افراد زمین پر لٹائے گئے، کئی مریض اپنے ہاتھوں سے ڈرِپ پکڑے ہوئے تھے جبکہ ایمبولینسیں مسلسل لاشیں اور زخمی لاتی رہیں۔ متعدد علاقوں میں بجلی، ٹیلی فون اور موبائل نیٹ ورک بھی متاثر ہوگئے، جس کے باعث خاندان ایک دوسرے سے رابطہ کھو بیٹھے۔ ہزاروں افراد نے لاپتا رشتہ داروں کی تلاش کے لیے سوشل میڈیا اور خصوصی ویب سائٹس کا سہارا لیا۔
اس تباہی نے وینزویلا کے برسوں سے کمزور ہوتے سرکاری نظام کو بھی بے نقاب کردیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ملک گزشتہ ایک دہائی سے معاشی بدحالی، صحت کے نظام کی تباہی، دواوں کی قلت، بجلی کے بحران اور لاکھوں تربیت یافتہ افراد کی ہجرت جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں اتنے بڑے پیمانے کی قدرتی آفت سے نمٹنا حکومت کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ کئی ہسپتال پہلے ہی ناکافی وسائل پر چل رہے تھے اور متعدد عمارتیں برسوں سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کمزور ہوچکی تھیں۔

زلزلہ ایک ایسے وقت آیا جب وینزویلا سیاسی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے چند ماہ قبل اقتدار سنبھالا اور ملک ابھی تک سابق صدر نکولس مادورو کے دور کے سیاسی اور انتظامی اثرات سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس نئی حکومت کے لیے یہ پہلا بڑا امتحان ثابت ہوا، کیونکہ اسے نہ صرف فوری امدادی کارروائیاں منظم کرنی ہیں بلکہ عالمی امداد بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنی ہوگی۔
بین الاقوامی برادری نے نسبتاً تیزی سے ردعمل دیا۔ امریکہ نے 15 کروڑ ڈالر کی ابتدائی امداد، سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، فوجی لاجسٹک معاونت اور فضائی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ایک امریکی بحری جہاز کو بھی امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کی گئی تاکہ ہیلی کاپٹروں اور دوسرے ذرائع سے متاثرہ علاقوں تک سامان پہنچایا جاسکے۔ اقوام متحدہ، کولمبیا، میکسیکو، برازیل، ایل سلواڈور، جرمنی، قطر اور کئی دوسرے ممالک نے بھی امدادی ٹیمیں اور سامان بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ یورپی یونین نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے نقصانات کا جائزہ لینے میں تعاون شروع کیا۔
زلزلے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ناقص تعمیرات اور کمزور شہری منصوبہ بندی قدرتی آفات کو کس طرح انسانی سانحے میں تبدیل کردیتی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق اس علاقے میں بڑی تعداد میں اینٹوں اور کمزور کنکریٹ سے تعمیر شدہ عمارتیں ہیں۔ کم گہرائی میں آنے والے شدید زلزلوں کے باعث جھٹکوں کی توانائی تقریباً پوری شدت سے زمین کی سطح تک پہنچی۔

امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں لیکن اصل امتحان اب بحالی اور تعمیر نو کا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوچکے ہیں، کاروبار تباہ ہوئے ہیں، بنیادی ڈھانچہ متاثر ہے اور پہلے سے کمزور معیشت پر اربوں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ وینزویلا کو صرف ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش ہی نہیں بلکہ رہائش، صحت، روزگار اور بنیادی خدمات کی بحالی کے ایک طویل مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا۔ ماہرین اس قدرتی آفت کو وینزویلا کے سیاسی، معاشی اور انسانی بحران کا ایک نیا اور مشکل مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Wall Street Journal: The Night the Ground Wouldn’t Stop Shaking in Venezuela

Washington Post: In Venezuela, rescuers race to save hundreds trapped in earthquake rubble

BBC: Rescuers race to find Venezuela quake survivors