صدر ٹرمپ اور پزشکیان کے سمجھوتے پر دستخط

آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی معیشت کے لیے ضروری تھی، صدر ٹرمپ، فوائد حاصل کیے جو فوجی کارروائی سے ممکن نہیں تھے، قالیباف، اسرائیل میں تشویش کا اظہار

صدر ٹرمپ اور پزشکیان کے سمجھوتے پر دستخط

امریکا کے صدر ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب پزشکیان نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے ہیں جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امریکی اور ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوچکا ہے۔
اس یادداشت کی سب سے اہم شق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے گا جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں نافذ ہوگا۔ اس کے بدلے امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات، متعلقہ بینکاری خدمات اور معاشی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کا راستہ کھول دیا ہے، جبکہ منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے معاشی بحران سے بچنا چاہتے تھے جو جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا تھا۔ ان کے مطابق جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی معیشت کے لیے ضروری تھی۔ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
ایران میں سرکاری سطح پر اس معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ایرانی کے مذاکرات کار باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ایران نے مذاکرات کے ذریعے وہ فوائد حاصل کیے جو فوجی کارروائی سے ممکن نہیں تھے۔ ان کے مطابق ایران کو تیل برآمد کرنے، منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل کرنے اور پابندیوں میں نرمی کی صورت میں نمایاں سفارتی کامیابی ملی ہے۔ ایرانی سرکاری بیانیے میں اس معاہدے کو امریکی دباؤ کے مقابلے میں تہران کی مزاحمت اور سفارت کاری کی فتح کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی ردعمل مجموعی طور پر مثبت رہا ہے۔ جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے اسے اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پائیدار حل تلاش کیا جاسکے گا۔ یورپی ممالک خاص طور پر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر مطمئن دکھائی دیے کیونکہ جنگ کے دوران تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہوئی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے جنگ کے پرامن خاتمے کی جانب تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی اور خطے میں کشیدگی کم ہوگی۔ پاکستانی قیادت نے اسے سفارت کاری کی کامیابی اور عالمی معیشت کے لیے مثبت خبر قرار دیا۔
ادھر اسرائیل میں اس معاہدے پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکا نے ایران پر معاشی اور عسکری دباؤ وقت سے پہلے کم کردیا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام سے تاریخی فتح کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے برعکس ایران کو معاشی فوائد، تیل کی برآمدات اور اضافی وسائل حاصل ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا میں بھی تشویش نمایاں رہی۔ بعض مبصرین نے اسے امریکا کی کمزوری قرار دیا۔ امریکا میں ناقدین کا کہنا تھا کہ ایران نے بڑی معاشی رعایتیں حاصل کرلی ہیں لیکن اس کے بدلے میں ابھی تک کوئی واضح اور مکمل جوہری پابندی قبول نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک عبوری معاہدہ ہے، حتمی تصفیہ نہیں۔ اصل امتحان آئندہ ساٹھ روزہ مذاکرات ہوں گے جن میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے مکمل خاتمے، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور خطے کی سلامتی سے متعلق پیچیدہ معاملات طے کیے جائیں گے۔ دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ یہ مفاہمت ایک پائیدار امن معاہدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

اس سمجھوتے کا مکمل متن یہ ہے:

1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا، نیز موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی، اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی معاندانہ کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا سہارا لیں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق اور باقی تمام شقوں کی توثیق کرے گا۔

2۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کی مدت کے اندر، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جاسکتی ہے، مذاکرات مکمل کرکے ایک حتمی معاہدے تک پہنچیں گے۔

4۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی ریاست ہائے متحدہ امریکا بحری ناکابندی ختم کرے گا، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی مداخلت یا رکاوٹ کو روکے گا، اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کرے گا۔ جہازوں کی آمدورفت کا حجم اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جنگ سے پہلے کی سطح پر ہوگا۔ امریکا اس بات کا بھی عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے بعد 30 دن کے اندر اپنی افواج کو گرد و نواح کے علاقوں سے واپس بلا لے گا۔

5۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر ایسے اقدامات کرے گا کہ خلیج فارس سے بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عمان سے خلیج فارس کی طرف تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو جائے، اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تکنیکی رکاوٹیں دور کرنا اور بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانا ایران کی ذمے داری ہوگی۔

6۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کی بحالی اور معاشی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کا عہد کرتا ہے، جس پر دونوں فریق متفق ہوں گے، اور جس کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقۂ کار، جو حتمی معاہدے کا حصہ ہوگا، 60 دن کے اندر مرتب کیا جائے گا۔

7۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت طے کیے جانے والے شیڈول کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیوں کا خاتمہ کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی پابندیاں، اور امریکا کی تمام یکطرفہ پابندیاں، خواہ بنیادی ہوں یا ثانوی، شامل ہیں۔

8۔ اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد کے مستقبل اور دیگر تمام متفقہ جوہری معاملات، بشمول ایران کی جوہری ضروریات، کو حتمی معاہدے میں مناسب طور پر حل کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کی توثیق کرے گا۔

9۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی؛ ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ پوزیشن برقرار رکھے گا، جبکہ امریکا ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا۔

10۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک، امریکی محکمۂ خزانہ ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات، اور ان سے متعلق تمام خدمات، بشمول بینکاری، انشورنس، نقل و حمل اور اسی نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کے لیے استثنائی اجازت نامے جاری کرے گا۔

11۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کی جانب مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثے آزاد کر دیے جائیں گے اور مکمل طور پر دستیاب ہوں گے۔ یہ فنڈز، خواہ مرکزی اکاؤنٹ میں موجود ہوں یا منتقل کیے جاچکے ہوں، اسلامی جمہوریہ ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی حتمی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جاسکیں گے اور ان کا مکمل استعمال ممکن ہوگا۔ امریکا اس مقصد کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور لائسنس جاری کرنے کا عہد کرتا ہے۔

12۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں اس کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نگران طریقۂ کار قائم کیا جائے گا۔

13۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور اس یادداشت کی شق 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہونے کی یقین دہانی حاصل ہونے اور ان اقدامات کے تسلسل کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا صرف باقی ماندہ شقوں کے حوالے سے حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

14۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند [بائنڈنگ] قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Reuters: The 14-point US-Iran pact as read by US official

Wall Street Journal: Trump Defends Iran Deal, Says He Wants to Avoid ‘Economic Catastrophe’

Guardian: Donald Trump’s Iran deal met with anger, relief and incredulity