ایران نے بحری جہازوں پر حملے کرکے جنگ بندی کیوں ختم کی؟
یہ صرف فوجی جھڑپیں نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کی جنگ ہے، تجزیہ کار، ایران کے ساتھ مزید مذاکرات وقت کا زیاں محسوس ہوتے ہیں، صدر ٹرمپ
امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملے اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور خلیجی ملکوں پر حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔ دو ہفتے پہلے ہوئی عارضی مفاہمت اب عملاً ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی شرائط کے بغیر آبنائے ہرمز پر امریکی منصوبے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر اعلان کیا کہ ان کے نزدیک جنگ بندی "ختم ہوچکی ہے" اور اب ایران کے ساتھ مزید مذاکرات وقت کا زیاں محسوس ہوتے ہیں۔
تازہ بحران کی وجہ آبنائے ہرمز میں وہ حملے بنے جن میں ایرانی افواج نے متعدد تجارتی جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان میں مائع قدرتی گیس لے جانے والا ایک ٹینکر بھی شامل تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے قومی سلامتی کے مشیروں سے ہنگامی مشاورت کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران مستقل معاہدے میں سنجیدہ نہیں۔ اس کے بعد ایران کی تیل برآمد کرنے کی خصوصی اجازت واپس لے لی گئی اور ایرانی عسکری اہداف پر نئے فضائی حملوں کا حکم دیا گیا۔
امریکی کارروائی صرف علامتی نہیں تھی۔ امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ امریکی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، کمانڈ مراکز اور اینٹی شپ میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے اہم شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی روح کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ایسا بحری راستہ قائم کیا جس پر ایران سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں ہوئی۔ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ جہازوں کو ان راستوں سے گزرنا چاہیے جنھیں ایران محفوظ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا عمان کے ساحل کے قریب متبادل راستے کو فروغ دے رہا ہے تاکہ امریکی بحری اور فضائی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ صرف فوجی جھڑپ نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کی جنگ ہے۔ عارضی مفاہمت کے تحت ایران نے راستہ کھلا رکھنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکابندی نرم کی اور تیل کی فروخت میں بھی رعایت دی۔ لیکن ایران اس بات پر مصر رہا کہ جہاز اس کے متعین کردہ راستے استعمال کریں تاکہ اس کی نگرانی برقرار رہے۔ عمان کے قریب متبادل راہداری سے تہران کو محسوس ہوا کہ اس کی سفارتی اور عسکری برتری کمزور کی جارہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق موجودہ صورتحال "ٹِٹ فار ٹیٹ" یعنی جوابی حملوں کے ایسے چکر میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں ہر حملہ اگلے حملے کو جنم دیتا ہے۔ ایران اپنی سب سے بڑی طاقت، یعنی آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ آسانی سے چھوڑنے پر آمادہ نہیں کیونکہ یہی اس کے لیے مستقبل کے مذاکرات میں سب سے اہم دباؤ کا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کے لیے ہرمز کو مکمل طور پر کھلوانا سیاسی اور معاشی ضرورت بن چکا ہے کیونکہ عالمی توانائی کی قیمتیں اور امریکی داخلی سیاست دونوں اس سے متاثر ہورہے ہیں۔
دوسری جانب دی اکانومسٹ نے توجہ دلائی ہے کہ ایران کی داخلی سیاست بھی بدل رہی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اب طاقت کا مرکز پہلے سے زیادہ پاسداران انقلاب کے ہاتھ میں ہے۔ نئی قیادت سفارت کاری کے بجائے طاقت کے اظہار کو ترجیح دیتی نظر آتی ہے۔ خامنہ ای کے جنازے کو بھی صرف مذہبی تقریب کے بجائے سیاسی اور عسکری طاقت کے مظاہرے میں تبدیل کردیا گیا، جہاں امریکا مخالف نعرے اور انتقام کے مطالبات نمایاں تھے۔ ایسے ماحول میں کسی فوری مصالحت کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔
اس رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ایران کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اس کی کمزور معیشت ہے۔ جنگ، پابندیوں اور طویل تنہائی نے صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور آبادی کا بڑا حصہ غربت کا شکار ہے۔ اگرچہ عسکری قیادت سخت مؤقف اختیار کررہی ہے، لیکن ایرانی عوام مسلسل جنگ کے جائے معاشی استحکام اور پابندیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کے اداریے نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ ایران نے عارضی معاہدے کے باوجود نہ صرف آبنائے ہرمز میں دباؤ برقرار رکھا بلکہ اپنے جوہری پروگرام میں بھی مطلوبہ پیشرفت نہیں دکھائی۔ اداریے کے مطابق امریکا کے پاس اب دو ہی راستے ہیں کہ یا تو زیادہ سخت دباؤ ڈال کر ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت مزید محدود کرے، یا پھر ایک بار پھر ایسے مذاکرات میں داخل ہو جو بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں سب سے زیادہ تشویش عالمی معیشت کو لاحق ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ جیسے ہی تازہ حملوں کی خبریں آئیں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور شپنگ کمپنیاں دوبارہ محتاط ہوگئیں۔ اگر یہ جھڑپیں مزید پھیلیں تو صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ پوری دنیا کو توانائی، تجارت اور افراط زر کے نئے بحران کا سامنا ہوگا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Financial Times: Why the US and Iran are stuck in a cycle of tit-for-tat strikes
Wall Street Journal: Trump Tells the Truth About Iran
The Economist: Is Donald Trump serious in declaring the ceasefire with Iran over?