ایران اور قطر کی حمایت سے محروم حماس کیا انجام کو پہنچ چکی ہے؟
اسرائیل نے حماس کا صرف سر قلم نہیں کیا بلکہ تنظیم کا پورا اعصابی نظام ختم کردیا ہے، غزہ کے لوگ اب مزاحمت نہیں، بجلی، روزگار، تعلیم اور امن چاہتے ہیں، فارن افئیرز میگزین
اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو پونے تین سال ہوچکے ہیں۔ اس دوران اسرائیل نے بارہا دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد حماس کا مکمل خاتمہ ہے۔ اس کے جواب میں کہا جاتا رہا کہ حماس پہلے بھی کئی جنگیں جھیل چکی ہے اور ہر بار دوبارہ کھڑی ہوگئی۔ لیکن اب صورتحال سے آگاہ لوگ کہتے نظر آرہے ہیں کہ اس بار صورتحال مختلف ہے اور حماس اس حد تک تباہ ہوچکی ہے کہ اس کی بحالی ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
فارن افیئرز کے تجزیہ کار جیزر ابو موسیٰ کے مطابق اکثر ماہرین اب بھی سمجھتے ہیں کہ حماس کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ غزہ جنگ نے صرف حماس کی فوجی طاقت کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کی قیادت، تنظیمی ڈھانچے، مالی وسائل، بیرونی سرپرستی اور عوامی حمایت کو بھی اس حد تک ختم کردیا ہے کہ اب وہ غزہ پر مؤثر حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
اس مضمون کے مطابق اس تباہی کی پہلی علامت حماس کی قیادت کا تقریباً مکمل خاتمہ ہے۔ یحییٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ، محمد ضیف، محمد سنوار اور متعدد دوسرے اعلیٰ رہنما مارے جاچکے ہیں، جبکہ درمیانی سطح کے سیکڑوں کمانڈر بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ أبو موسیٰ نے لکھا کہ اسرائیل نے صرف "سر قلم" نہیں کیا بلکہ تنظیم کا پورا "اعصابی نظام" ہی ختم کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی قیادت سامنے نہیں آسکی، شوریٰ کونسل نئے سربراہ کے انتخاب میں ناکام رہی اور تنظیم عارضی اجتماعی قیادت کے ذریعے چل رہی ہے جس کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں۔
فارن افیئرز کے مطابق حماس بیرونی پشت پناہی سے بھی محروم ہوچکی ہے۔ کئی برسوں تک اسلحہ، تربیت اور مالی امداد فراہم کرنے والا ایران اپنی داخلی مشکلات اور جنگی نقصانات کی وجہ سے حماس کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دے رہا۔ قطر نے بھی امریکی دباؤ اور بدلتی علاقائی سیاست کے باعث حماس کے رہنماؤں کو پہلے جیسی سہولتیں فراہم کرنا کم کردی ہیں۔ یوں تنظیم نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی طور پر بھی تنہائی کا شکار ہوگئی ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی حالات نہایت مایوس کن ہیں۔ حماس کے مالی وسائل تقریباً ختم ہوچکے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا نہیں ہو رہیں، اور آمدنی بڑھانے کے لیے امدادی سامان کی بلیک مارکیٹ اور درآمدی کمپنیوں پر بھاری ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود تنظیم اپنے جنگی ڈھانچے، سرنگوں، راکٹ سازی کے مراکز اور مواصلاتی نظام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اگرچہ امریکی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق تقریباً بیس ہزار جنگجو اب بھی موجود ہیں، لیکن ان کے پاس صرف محدود کارروائیوں کی معمولی صلاحیت باقی بچی ہے۔
فارن افئیرز نے فلسطینی سروے کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مسلح مزاحمت کو بہترین راستہ سمجھنے والے غزہ کے باشندوں کی شرح نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ غزہ کے بہت سے لوگ اب بجلی، روزگار، تعلیم اور امن چاہتے ہیں، جبکہ حماس انھیں یہ سب فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ اسی تناظر میں جنوری 2026 میں غزہ کی سول انتظامیہ کسی دوسری تکنوکریٹ باڈی کے حوالے کرنے کی آمادگی تنظیم کی سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔
اسی مؤقف کی تائید فرانسیسی اخبار لے موند میں شائع ہونے والے سابق حماس رہنما احمد یوسف کے انٹرویو میں بھی ملتی ہے۔ اسماعیل ہنیہ کے سابق مشیر احمد یوسف اب غزہ کے ایک خیمے میں رہ رہے ہیں۔ وہ کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ ہم جنگ ہار گئے، ہم سب کچھ کھو بیٹھے، مسلح جدوجہد ناکام ہوگئی۔ ان کے مطابق سات اکتوبر کا حملہ ایک "مہلک غلطی" تھا جس نے نیتن یاہو کو غزہ پر تباہ کن جنگ شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حماس کے اندر بہت سے لوگ نجی محفلوں میں یہی سمجھتے ہیں کہ تنظیم کا عسکری دور تقریباً ختم ہوچکا ہے، اگرچہ وہ کھل کر یہ بات نہیں
کہتے۔
اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے مارچ 2026 میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اگرچہ حماس کو شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ختم سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ اخبار کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد عالمی توجہ بٹنے سے حماس نے غزہ کے ان علاقوں میں جہاں اس کی رسائی برقرار ہے، دوبارہ پولیس، عدالتوں اور سول انتظامیہ کو فعال کرنا شروع کردیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم دوبارہ ٹیکس وصول کررہی ہے، بعض مقامات پر ٹریفک پولیس تعینات کرچکی ہے اور روزمرہ نظم و نسق پر اپنی گرفت بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
فارن افیئرز نے صرف حماس پر تنقید نہیں کی بلکہ اسرائیلی حکومت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ اس کے مطابق حماس اپنی شکست تسلیم نہیں کرنا چاہتی، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی حماس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ غزہ میں طویل فوجی موجودگی، تعمیر نو میں تاخیر اور اپنی داخلی سیاسی حکمت عملی کو جواز فراہم کرسکیں۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حماس عملی طور پر ٹوٹ چکی ہے تو پھر اسرائیل پر غزہ کے مستقبل کے بارے میں نئے سیاسی فیصلوں کے لیے عالمی دباؤ بڑھ جائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Foreign Affairs: The End of Hamas
Le Monde: Ahmed Yousef, former Hamas official: 'We have lost everything, armed struggle has failed'
Washington Post: As Israel targets Iran, Gaza’s nascent recovery stalls and Hamas gains strength