مذہبیات
امام حسین اور شہدائے کربلا کے سر کہاں دفن ہیں؟
شیعہ دنیا میں مقبول روایت یہ ہے کہ امام حسین کا سر دوبارہ کربلا پہنچایا گیا اور جسم کے ساتھ دفن کیا گیا، لیکن قدیم مآخذ میں یہ روایت نہیں ملتی
مذہبیات
شیعہ دنیا میں مقبول روایت یہ ہے کہ امام حسین کا سر دوبارہ کربلا پہنچایا گیا اور جسم کے ساتھ دفن کیا گیا، لیکن قدیم مآخذ میں یہ روایت نہیں ملتی
مذہبیات
بعد کی صدیوں میں حرم حسینی صرف زیارت گاہ نہیں رہا بلکہ علمی اور سماجی مرکز بھی بن گیا، جس کے بعد علما اور معروف افراد حرم، رواقوں اور صحنوں میں دفن ہونے لگے
مذہبیات
عام تصور یہ ہے کہ اہل کوفہ نے امام حسین کو تنہا چھوڑ دیا، سچ یہ ہے کہ امام حسین پر جان دینے والوں میں سب سے بڑا گروہ کوفی اصحاب کا تھا
مذہبیات
آج کی عزاداری ایک ہزار سال پر محیط تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے، جس میں سوگ، سیاست، مذہب، ادب اور ثقافت سب نے اپنا کردار ادا کیا
مذہبیات
أبو مخنف، شیخ مفید اور ابن طاؤس لاکھوں کے مجمع کا ذکر نہیں کرتے، یزیدی فوج کے چند سپاہی رات کے وقت یا عاشور کی صبح خاموشی سے لشکر چھوڑ کر چلے گئے تھے
مذہبیات
ایک ساتھی نے جنگ میں شرکت کی، کئی حملے روکے اور بعض ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑے، پھر امام حسین سے اجازت طلب کرکے چلے گئے، ان کا پیچھا کیا گیا لیکن وہ بچ نکلے
مذہبیات
یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ کو عملی طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا تھا، راستوں پر پہرے تھے، مشتبہ افراد گرفتار کیے جارہے تھے اور قبائل کو سرکاری نگرانی میں رکھا گیا تھا
مذہبیات
پہلی صدی ہجری کے وسط تک سیاسی طاقت صحابہ کے ہاتھوں سے نکل کر اموی گورنروں، فوجی کمانڈروں، قبائلی سرداروں اور تابعین کی نئی نسل کے پاس منتقل ہوچکی تھی
مذہبیات
شہدائے کربلا کے قاتلوں میں عمر بن سعد کا کردار سب سے الم ناک ہے، جس گورنری کے لیے اس نے امام حسین کے خلاف لشکر کی قیادت قبول کی، وہ اسے کبھی نہ مل سکی
مذہبیات
عباسی خلیفہ متوکل کے حکم پر شہدائے کربلا کی قبروں پر ہل چلایا گیا، پانی چھوڑا گیا اور زائرین کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے
مذہبیات
مورخین نے اس رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ جب معاشرے شدید بحران کا شکار ہوتے ہیں تو نجات دہندہ شخصیت کی امید زیادہ طاقتور ہوجاتی ہے
مذہبیات
شمالی اسرائیل کے مقام تل دان سے ایک آرامی کتبہ دریافت ہوا جس میں بیت داؤد کے الفاظ پڑھے گئے، بیشتر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اسے داؤدی خاندان کا حوالہ مانتے ہیں
کچھ لکھیں...